کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: نماز میں جو عمل جائز ہے اس سے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: اشارے سے سلام کا جواب دینے کا بیان
حدیث نمبر: 3396
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَنِي لِحَاجَةٍ ثُمَّ أَدْرَكْتُهُ وَهُوَ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَأَشَارَ إِلَيَّ فَلَمَّا فَرَغَ دَعَانِي، فَقَالَ: " إِنَّكَ سَلَّمْتَ آنِفًا وَأَنَا أُصَلِّي " وَهُوَ مُوَجَّهٌ حِينَئِذٍ قِبَلَ الْمَشْرِقِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے کسی کام کے لیے بھیجا، جب میں واپس آیا تو آپ ﷺ کو نماز میں پایا، میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے میری طرف اشارہ کیا، پھر جب رسول اللہ ﷺ فارغ ہوئے تو مجھے بلایا اور فرمایا: ”تم نے مجھے ابھی ابھی سلام کہا تھا اور میں نماز میں تھا (اس لیے جواب نہیں دیا)“ اور آپ اس وقت مشرق کی طرف منہ کیے ہوئے تھے۔
حدیث نمبر: 3397
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، قَالَا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُنْطَلِقٌ إِلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى بَعِيرِهِ فَكَلَّمْتُهُ، فَقَالَ لِي بِيَدِهِ: هَكَذَا وَأَوْمَأَ زُهَيْرٌ بِيَدِهِ ثُمَّ كَلَّمْتُهُ، فَقَالَ لِي: هَكَذَا وَأَوْمَأَ زُهَيْرٌ أَيْضًا بِيَدِهِ نَحْوَ الْأَرْضِ وَأَنَا أَسْمَعُهُ يَقْرَأُ يُومِئُ بِرَأْسِهِ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: " مَا فَعَلْتَ فِي الَّذِي أَرْسَلْتُكَ لَهُ؟ فَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أُكَلِّمَكَ إِلَّا أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي " قَالَ زُهَيْرٌ وَأَبُو الزُّبَيْرِ جَالِسٌ مَعَهُ: مُسْتَقْبِلَ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ بِيَدِهِ أَبُو الزُّبَيْرِ إِلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ، فَقَالَ بِيَدِهِ إِلَى غَيْرِ الْكَعْبَةِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے کسی کام کے لیے روانہ کیا اور آپ بنی مصطلق کی طرف گئے ہوئے تھے۔ میں جب (کام سے) واپس آیا تو رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ اپنے اونٹ پر بیٹھے ہیں، میں نے رسول اللہ ﷺ سے بات کرنا چاہی تو آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ کے ساتھ اشارہ کیا۔ راوی کہتے ہیں: زہیر نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے بتایا: میں نے پھر بات کی تو آپ ﷺ نے مجھے اس طرح اشارہ کیا اور زہیر نے بھی ایسے ہی اپنے ہاتھ کے ساتھ زمین کی طرف اشارہ کیا۔ جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں سن رہا تھا: آپ ﷺ پڑھ رہے تھے اور سر سے اشارہ بھی کر رہے تھے۔ جب آپ فارغ ہوئے تو فرمایا: ”جس کام کے لیے تمہیں بھیجا تھا اس کا کیا کر آئے ہو؟ مجھے کلام سے مانع بات یہ تھی کہ میں نماز میں تھا۔“ زہیر کہتے ہیں اور ابو زبیر ان کے ساتھ قبلہ رخ ہو کر بیٹھے تھے تو انہوں نے اپنے ہاتھ سے بنی مصطلق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، یعنی اپنے ہاتھ کے ساتھ غیر قبلہ کی طرف اشارہ کیا۔
حدیث نمبر: 3398
وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ وَكِيعٌ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ عَلَيَّ إِشَارَةً وَرَوَاهُ غَيْرُهُ، عَنْ سُفْيَانَ، فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: " لَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ " وَإِنَّمَا أَرَادَ لَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ كَلَامًا وَرَدَّ عَلَيَّ إِشَارَةً وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ، وَقَدْ جَمَعَهُمَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ فِي الرِّوَايَةِ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے کسی کام کے لیے بھیجا۔ میں (کام سے فارغ ہو کر) آپ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ ﷺ نے میرے سلام کا جواب اشارے سے دیا۔ سفیان وغیرہ کی حدیث کے الفاظ ہیں: «لَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ» ”کہ مجھے سلام کا جواب نہ دیا۔“
(ب) «لَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ» سے مراد یہ ہے کہ بول کر جواب نہیں دیا بلکہ اشارے کے ساتھ جواب دیا۔ وباللہ التوفیق۔
(ب) «لَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ» سے مراد یہ ہے کہ بول کر جواب نہیں دیا بلکہ اشارے کے ساتھ جواب دیا۔ وباللہ التوفیق۔
حدیث نمبر: 3399
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ إِلَى حَاجَةٍ لَهُ فَجَاءَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: " إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ إِلَّا أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے انھیں اپنی کسی ضرورت کے لیے بھیجا، وہ واپس آئے تو رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے۔ انھوں نے آپ ﷺ کو سلام کیا تو آپ ﷺ نے سلام کا جواب نہ دیا اور اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا۔ پھر جب آپ ﷺ نے نماز سے سلام پھیرا تو فرمایا: ”میں تمہارے سلام کا جواب ضرور دیتا مگر میں نماز میں تھا۔“
حدیث نمبر: 3400
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنَ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْأَسْفَاطِيُّ يَعْنِي عَبَّاسَ بْنَ الْفَضْلِ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ نَابِلٍ صَاحِبِ الْعَبَاءِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ صُهَيْبٍ قَالَ: " مَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ إِلَيَّ إِشَارَةً قَالَ لَيْثٌ: حَسِبْتُهُ قَالَ: " بِأُصْبُعِهِ " وَقَدْ رُوِيَ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ بِإِسْنَادٍ فِيهِ إِرْسَالٌ أَنَّهُ أَشَارَ بِيَدِهِ بِلَا شَكٍّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے۔ میں آپ ﷺ کے پاس سے گزرا تو میں نے آپ ﷺ کو سلام کیا۔ آپ ﷺ نے اشارے سے جواب دیا۔ لیث کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ انہوں نے فرمایا: اپنی انگلی سے اشارہ کیا۔
حدیث نمبر: 3401
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ بِمَعْنًى: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ ذَهَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ بِقُبَاءَ لِيُصَلِّيَ فِيهِ فَدَخَلَتْ عَلَيْهِ رِجَالُ الْأَنْصَارِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ فَسَأَلْتُ صُهَيْبًا، وَكَانَ مَعَهُ، كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرُدُّ عَلَيْهِمْ حِينَ كَانُوا يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي؟ فَقَالَ صُهَيْبٌ: " كَانَ يُشِيرُ إِلَيْهِمْ بِيَدِهِ " فَقَالَ سُفْيَانُ: فَقُلْتُ لِرَجُلٍ: ⦗٣٦٧⦘ سَلْهُ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنَ ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ: يَا أَبَا أُسَامَةَ، أَسَمِعْتَهُ مِنَ ابْنِ عُمَرَ؟ قَالَ: أَمَّا أَنَا قَدْ كَلَّمْتُهُ وَكَلَّمَنِي، وَلَمْ يَقُلْ زَيْدٌ سَمِعْتُهُ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ.
حافظ ثناء اللہ
اس قصہ میں متعدد روایات ہیں، لیکن ان کی اسناد اس قول میں مرسل ہیں کہ انہوں نے بغیر کسی شک کے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بنی عمرو بن عوف کی مسجد کی طرف قبا میں تشریف لے گئے تاکہ وہاں جا کر نماز پڑھائیں۔ انصار کے لوگ آپ کے پاس آئے اور آپ کو سلام کہا، میں نے صہیب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”رسول اللہ ﷺ حالت نماز میں ان کے سلام کا جواب کس طرح دیتے تھے؟“ تو صہیب رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ان کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے تھے۔“ سفیان کہتے ہیں: میں نے ایک آدمی سے کہا: ”اس سے پوچھ: کیا تو نے یہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا ہے؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”اے ابو اسامہ! کیا تم نے یہ بات ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنی ہے؟“ انہوں نے کہا: ”یقیناً میں نے ان سے بات کی ہے اور انہوں نے مجھ سے بات کی ہے“ اور زید نے نہیں کہا کہ میں نے ان سے سنا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بنی عمرو بن عوف کی مسجد کی طرف قبا میں تشریف لے گئے تاکہ وہاں جا کر نماز پڑھائیں۔ انصار کے لوگ آپ کے پاس آئے اور آپ کو سلام کہا، میں نے صہیب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”رسول اللہ ﷺ حالت نماز میں ان کے سلام کا جواب کس طرح دیتے تھے؟“ تو صہیب رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ان کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے تھے۔“ سفیان کہتے ہیں: میں نے ایک آدمی سے کہا: ”اس سے پوچھ: کیا تو نے یہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا ہے؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”اے ابو اسامہ! کیا تم نے یہ بات ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنی ہے؟“ انہوں نے کہا: ”یقیناً میں نے ان سے بات کی ہے اور انہوں نے مجھ سے بات کی ہے“ اور زید نے نہیں کہا کہ میں نے ان سے سنا ہے۔
حدیث نمبر: 3402
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَكْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، أنبأ أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا هِشَامٌ وَهُوَ ابْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: " خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قُبَاءَ فَجَاءَتِ الْأَنْصَارُ يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ فَإِذَا هُوَ يُصَلِّي فَجَعَلُوا يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ " فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: يَا بِلَالُ كَيْفَ رَأَيْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرُدُّ عَلَيْهِمْ وَهُوَ يُصَلِّي؟ قَالَ " هَكَذَا " بِيَدِهِ كُلِّهَا يَعْنِي يُشِيرُ " وَهَكَذَا رَوَاهُ وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ وَجَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، وَرَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ هِشَامٍ، فَقَالَ: بِلَالٌ أَوْ صُهَيْبٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ قباء کی طرف نکلے، انصار کے لوگ حاضر ہو کر آپ کو سلام کہنے لگے اور آپ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے۔ وہ آپ کو سلام کہنے لگے تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اے بلال! آپ نے رسول اللہ ﷺ کو کس طرح سلام کا جواب دیتے ہوئے دیکھا؟ انہوں نے فرمایا: اس طرح اور انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کر کے دکھایا کہ آپ یوں اشارہ کر رہے تھے۔
حدیث نمبر: 3403
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَأَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ: " خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قُبَاءَ فَسَمِعَتْ بِهِ الْأَنْصَارُ فَجَاءُوا يُسَلِّمُونَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَالَ: فَقُلْتُ لِبِلَالٍ أَوْ صُهَيْبٍ: كَيْفَ رَأَيْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرُدُّ عَلَيْهِمْ وَهُمْ يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي؟ قَالَ: " يُشِيرُ بِيَدِهِ " قَالَ: وَبَلَغَنِي فِي غَيْرِ هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّ صُهَيْبًا الَّذِي سَأَلَهُ ابْنُ عُمَرَ. ابْنُ وَهْبٍ بِقَوْلِهِ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ قَالَ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ: كِلَا الْحَدِيثَيْنِ عِنْدِي صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ ابْنُ عُمَرَ، عَنْ بِلَالٍ وَصُهَيْبٍ جَمِيعًا.
حافظ ثناء اللہ
(ا) نافع بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ قبا کی طرف تشریف لے گئے۔ انصار کو آپ ﷺ کے بارے میں پتہ چلا تو وہ حاضر ہو کر آپ ﷺ کو سلام کرنے لگے (آپ ﷺ نماز میں تھے)۔ راوی کہتے ہیں: میں نے سیدنا بلال یا سیدنا صہیب رضی اللہ عنہما سے پوچھا: آپ نے رسول اللہ ﷺ کو نماز میں کس طرح سلام کا جواب دیتے ہوئے دیکھا؟ تو انہوں نے فرمایا: وہ اپنے ہاتھ کے ساتھ اشارہ فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 3404
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ سَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ وَهُوَ يُصَلِّي فَرَدَّ عَلَيْهِ الرَّجُلُ كَلَامًا، فَقَالَ: " إِذَا سُلِّمَ عَلَى أَحَدِكُمْ وَهُوَ يُصَلِّي فَلَا يَتَكَلَّمْ وَلَكِنْ يُشِيرُ بِيَدِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
نافع سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک آدمی کو سلام کہا اور وہ نماز پڑھ رہا تھا۔ اس آدمی نے سلام کا جواب الفاظ کے ساتھ دیا تو انہوں نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنے مسلمان بھائی کو سلام کرے اور وہ نماز پڑھ رہا ہو تو وہ کلام نہ کرے بلکہ اپنے ہاتھ سے اشارہ کر لے۔“
حدیث نمبر: 3405
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، أنبأ أَبُو بَحْرٍ الْبَرْبَهَارِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَمْرٌو، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّ مُوسَى بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَمِيلٍ الْجُمَحِيَّ، سَلَّمَ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَهُوَ يُصَلِّي فَأَخَذَهُ بِيَدِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
عطاء بیان کرتے ہیں کہ موسیٰ بن عبداللہ بن جمیل جمحی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو حالتِ نماز میں سلام کیا تو انہوں نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا۔