السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
جماع أبواب ما يجوز من العمل في الصلاة -- باب: الإشارة برد السلام باب: نماز میں جو عمل جائز ہے اس سے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: اشارے سے سلام کا جواب دینے کا بیان
حدیث نمبر: 3398
وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ وَكِيعٌ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ عَلَيَّ إِشَارَةً وَرَوَاهُ غَيْرُهُ، عَنْ سُفْيَانَ، فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: " لَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ " وَإِنَّمَا أَرَادَ لَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ كَلَامًا وَرَدَّ عَلَيَّ إِشَارَةً وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ، وَقَدْ جَمَعَهُمَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ فِي الرِّوَايَةِ.حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے کسی کام کے لیے بھیجا۔ میں (کام سے فارغ ہو کر) آپ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ ﷺ نے میرے سلام کا جواب اشارے سے دیا۔ سفیان وغیرہ کی حدیث کے الفاظ ہیں: «لَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ» ”کہ مجھے سلام کا جواب نہ دیا۔“
(ب) «لَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ» سے مراد یہ ہے کہ بول کر جواب نہیں دیا بلکہ اشارے کے ساتھ جواب دیا۔ وباللہ التوفیق۔