السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
جماع أبواب ما يجوز من العمل في الصلاة -- باب: الإشارة برد السلام باب: نماز میں جو عمل جائز ہے اس سے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: اشارے سے سلام کا جواب دینے کا بیان
حدیث نمبر: 3396
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَنِي لِحَاجَةٍ ثُمَّ أَدْرَكْتُهُ وَهُوَ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَأَشَارَ إِلَيَّ فَلَمَّا فَرَغَ دَعَانِي، فَقَالَ: " إِنَّكَ سَلَّمْتَ آنِفًا وَأَنَا أُصَلِّي " وَهُوَ مُوَجَّهٌ حِينَئِذٍ قِبَلَ الْمَشْرِقِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے کسی کام کے لیے بھیجا، جب میں واپس آیا تو آپ ﷺ کو نماز میں پایا، میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے میری طرف اشارہ کیا، پھر جب رسول اللہ ﷺ فارغ ہوئے تو مجھے بلایا اور فرمایا: ”تم نے مجھے ابھی ابھی سلام کہا تھا اور میں نماز میں تھا (اس لیے جواب نہیں دیا)“ اور آپ اس وقت مشرق کی طرف منہ کیے ہوئے تھے۔