السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال يبني من سبقه الحدث على ما مضى من صلاته باب: اس قول کا بیان کہ جس شخص کو حدث لاحق ہو جائے وہ اپنی بقیہ نماز کو گزشتہ نماز پر بنا کرے
قَالَ الْوَلِيدُ: وَأَخْبَرَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَمِرٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " يَسْتَأْنِفُ " قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " أَحَبُّ الْأَقَاوِيلِ إِلَيَّ فِيهِ أَنَّهُ قَاطِعٌ لِلصَّلَاةِ وَهَذَا قَوْلُ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ " قَالَ: " وَقَوْلُ الْمِسْوَرِ أَشْبَهُ بِقَوْلِ الْعَامَّةِ فِيمَنْ وَلَّى ظَهْرَهُ الْقِبْلَةَ عَامِدًا أَنَّهُ يَبْتَدِئُ " قَالَ: " وَلَا يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ فِي حَالٍ لَا يَحِلُّ لَهُ فِيهَا الصَّلَاةُ مَا كَانَ بِهَا ثُمَّ يَبْنِي عَلَى صَلَاتِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ " وَكَانَ فِي الْقَدِيمِ يَقُولُ: " يَبْنِي " وَقَالَ فِي الْإِمْلَاءِ: " لَوْلَا مَذْهَبُ الْفُقَهَاءِ لَرَأَيْتُ أَنَّ مَنْ تَحَرَّفَ عَنِ الْقِبْلَةِ لِرُعَافٍ أَوْ غَيْرِهِ فَعَلَيْهِ الِاسْتِئْنَافُ، وَلَكِنْ لَيْسَ فِي الْآثَارِ إِلَّا التَّسْلِيمُ " قَالَ: ذَلِكَ بِهَذِهِ الْمَسْأَلَةِ وَمَسَائِلَ أُخَرَ، وَقَدْ رَجَعَ فِي الْجَدِيدِ إِلَى قَوْلِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.(ا) مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نئے سرے سے نماز دوبارہ سے پڑھے۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میرے نزدیک سب سے بہتر قول یہی ہے کہ اس سے نماز ٹوٹ جاتی ہے اور یہ مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے اور یہ عام حضرات کے قول کے بہت زیادہ مشابہ ہے، اس بارے میں کہ جب وہ اپنی پیٹھ قبلہ سے پھیر لے یہ یقین رکھتے ہوئے کہ وہ دوبارہ شروع کرے گا۔
(ج) فرماتے ہیں: یہ بات جائز نہیں کہ وہ ایسی حالت میں ہو جس میں نماز درست نہیں ہوتی، پھر اسی طرح اپنی نماز پر بنا رکھے۔
(د) ان کا قدیم قول اسی پر بنا کے بارے میں ہے۔
(ہ) وہ «الإِمْلَاءُ» میں کہتے ہیں کہ اگر فقہاء کے مذاہب نہ ہوتے تو میں یہ رائے دیتا کہ جو بھی قبلہ سے پھر جائے چاہے نکسیر بہنے کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے، اس کے لیے نماز از سر نو شروع کرنا ضروری ہے، لیکن آثار میں صرف سلام آیا ہے۔ فرماتے ہیں: یہ اس مسئلہ اور دوسرے مسائل کے بارے میں ہے اور تحقیق انہوں نے اپنے نئے قول میں مسور رضی اللہ عنہ کے قول کی طرف رجوع بھی کر لیا ہے۔ «وَبِاللہِ التَّوْفِیقُ» ”اور اللہ ہی کی طرف سے توفیق ہے“۔