السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من أحدث في صلاته قبل الإحلال منها بالتسليم باب: اس شخص کا بیان جس کا سلام کے ذریعے نماز سے نکلنے سے پہلے حدث ہو گیا (وضو ٹوٹ گیا)
حدیث نمبر: 3380
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ دَلَّوَيْهِ ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا صَلَاةَ بِغَيْرِ طَهُورٍ وَلَا تُقْبَلُ صَدَقَةٌ مِنْ غُلُولٍ " ⦗٣٦٢⦘ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ سِمَاكٍ فَثَبَتَ بِهَذِهِ الْأَخْبَارِ وُجُوبُ الِانْصِرَافِ عَنِ الصَّلَاةِ، عِنْدَ الْحَدَثِ وَوُجُوبُ الْوُضُوءِ وَقَدْ قَالَ فِيمَا رُوِّينَا عَنْهُ: " إِحْرَامُهَا التَّكْبِيرُ " فَلَا يَعُودُ إِلَيْهَا إِلَّا بِاسْتِئْنَافِ تَكْبِيرٍ وَفِي ذَلِكَ كَالدَّلَالَةِ عَلَى اسْتِئْنَافِ الصَّلَاةِ.حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بغیر طہارت کے نماز قبول نہیں کی جاتی اور چوری کے مال سے صدقہ قبول نہیں کیا جاتا۔“
(ب) ان احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ حدث لاحق ہونے کے بعد نماز توڑ دینا فرض ہوتا ہے اور وضو کرنا بھی۔ اس لیے کہ نماز تکبیر سے شروع ہوتی ہے، لہٰذا نئے سرے سے تکبیر کہہ کر نماز شروع کرے۔