کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جس کا سلام کے ذریعے نماز سے نکلنے سے پہلے حدث ہو گیا (وضو ٹوٹ گیا)
حدیث نمبر: 3373
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَيُّوبَ، ثنا الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ وَإِحْرَامُهَا التَّكْبِيرُ وَإِحْلَالُهَا التَّسْلِيمُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نماز کی کنجی طہارت ہے اور اس کو حرام کرنے والی تکبیر ہے اور اس کو حلال کرنے والا سلام ہے۔“
حدیث نمبر: 3374
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَعْنِي شَكَا إِلَيْهِ رَجُلٌ يَجِدُ فِي صَلَاتِهِ شَيْئًا قَالَ: " لَا يَنْصَرِفُ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
حافظ ثناء اللہ
عباد بن تمیم اپنے چچا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ کو کسی شخص نے شکایت کی کہ وہ اپنی نماز میں کوئی شبہ پاتا ہے تو کیا کرے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ نماز نہ توڑے جب تک کہ آواز نہ سن لے یا بدبو نہ محسوس کر لے۔“
حدیث نمبر: 3375
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي طَاهِرٍ الدَّقَّاقُ بِبَغْدَادَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، أنبأ سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَشْكَلَ عَلَى أَحَدِكُمْ فِي صَلَاتِهِ خَرَجَ مِنْهُ شَيْءٌ أَوْ لَمْ يَخْرُجْ فَلَا يَنْفَتِلْ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہو جائے کہ اس کی شرمگاہ سے کوئی چیز نکلی ہے تو جب تک وہ آواز نہ سن لے یا بدبو نہ محسوس کر لے تو نماز نہ توڑے۔“
حدیث نمبر: 3376
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادٌ، أنبأ سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ ⦗٣٦١⦘ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَوَجَدَ حَرَكَةً فِي دُبُرِهِ أَحْدَثَ أَوْ لَمْ يُحَدِثْ فَأُشْكِلَ عَلَيْهِ فَلَا يَنْصَرِفْ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا " وَفِي هَذَا دَلِيلٌ عَلَى أَنَّهُ يَنْصَرِفُ إِذَا سَمِعَ صَوْتًا أَوْ وَجَدَ رِيحًا لَا فَرْقَ فِيهِ بَيْنَ عَمْدِهِ وَسَهْوِهِ وَسَبْقِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے دوران اپنی سرین میں حرکت محسوس کرے اور اسے یقین نہ ہو کہ وضو ٹوٹا ہے تو جب تک وہ آواز نہ سنے یا بدبو محسوس نہ کرے تو نماز نہ توڑے۔“
(ب) اس حدیث سے یہ دلیل سمجھ آرہی ہے کہ جب وہ آواز سن لے یا بدبو محسوس کرے تو نماز توڑ دے۔ یہاں قصداً، سہواً اور سبقاً میں کوئی فرق نہیں۔ واللہ اعلم۔
(ب) اس حدیث سے یہ دلیل سمجھ آرہی ہے کہ جب وہ آواز سن لے یا بدبو محسوس کرے تو نماز توڑ دے۔ یہاں قصداً، سہواً اور سبقاً میں کوئی فرق نہیں۔ واللہ اعلم۔
حدیث نمبر: 3377
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ إِسْحَاقَ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاكِهِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَارِي، أنبأ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْتِي أَحَدَكُمْ فَيَنْقُرُ عِنْدَ عِجَازِهِ فَلَا يَخْرُجَنَّ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا أَوْ يَفْعَلَ ذَلِكَ مُتَعَمِّدًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”شیطان تم میں سے کسی کے پاس آتا ہے تو وہ اس کی دبر کے قریب پھونک مارتا ہے، لہٰذا تم میں سے کوئی بھی اس وقت تک نماز نہ توڑے جب تک آواز نہ سن لے یا بدبو محسوس نہ کرلے یا پھر قصداً یہ کام کرے۔“
حدیث نمبر: 3378
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ بِمَرْوَ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَلِيٍّ الْغَزَّالُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَحْدَثَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَضَعْ يَدَهُ عَلَى أَنْفِهِ ثُمَّ لِيَنْصَرِفْ" تَابَعَهُ عَلَى وَصْلِهِ حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ هِشَامٍ وَعَمْرِو بْنِ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيِّ، عَنْ هِشَامٍ وَجُبَارَةَ بْنِ الْمُغَلِّسِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ هِشَامٍ وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ وَشُعْبَةُ وَزَائِدَةُ وَابْنُ الْمُبَارَكِ وَشُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ وعَبْدةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا. قَالَ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ: وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ الْفَضْلِ بْنِ مُوسَى.
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب نماز کے دوران کسی کا وضو ٹوٹ جائے تو وہ اپنا ہاتھ ناک پر رکھ کر چلا جائے۔“
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس حدیث کو نعیم بن حماد نے فضل بن موسیٰ سے اسی طرح موصول روایت کیا ہے مگر انہوں نے اس کے متن میں کہا: ”جب تم میں سے نماز کے دوران کسی کا وضو ٹوٹ جائے تو وہ ناک پکڑ کر چلا جائے اور جا کر وضو کرلے۔“
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس حدیث کو نعیم بن حماد نے فضل بن موسیٰ سے اسی طرح موصول روایت کیا ہے مگر انہوں نے اس کے متن میں کہا: ”جب تم میں سے نماز کے دوران کسی کا وضو ٹوٹ جائے تو وہ ناک پکڑ کر چلا جائے اور جا کر وضو کرلے۔“
حدیث نمبر: 3379
قَالَ الشَّيْخُ: وَرَوَاهُ نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ مُوسَى، هَكَذَا مَوْصُولًا إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي مَتْنِهِ: " إِذَا أَحْدَثَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَأْخُذْ عَلَى أَنْفِهِ وَلْيَنْصَرِفْ فَلْيَتَوَضَّأْ " أَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا نُعَيْمٌ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، فَذَكَرَهُ وَقَدْ رُوِّينَا فِي كِتَابِ الطَّهَارَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَا تُقْبَلُ صَلَاةُ أَحَدِكُمْ إِذَا أَحْدَثَ حَتَّى يَتَوَضَّأَ ".
حافظ ثناء اللہ
(ا) ایک دوسری سند سے اسی کی مثل روایت منقول ہے۔
(ب) ہم سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کتاب الطہارہ میں بیان کرچکے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کی نماز بغیر وضو کے قبول نہیں ہوتی۔“
(ب) ہم سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کتاب الطہارہ میں بیان کرچکے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کی نماز بغیر وضو کے قبول نہیں ہوتی۔“
حدیث نمبر: 3380
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ دَلَّوَيْهِ ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا صَلَاةَ بِغَيْرِ طَهُورٍ وَلَا تُقْبَلُ صَدَقَةٌ مِنْ غُلُولٍ " ⦗٣٦٢⦘ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ سِمَاكٍ فَثَبَتَ بِهَذِهِ الْأَخْبَارِ وُجُوبُ الِانْصِرَافِ عَنِ الصَّلَاةِ، عِنْدَ الْحَدَثِ وَوُجُوبُ الْوُضُوءِ وَقَدْ قَالَ فِيمَا رُوِّينَا عَنْهُ: " إِحْرَامُهَا التَّكْبِيرُ " فَلَا يَعُودُ إِلَيْهَا إِلَّا بِاسْتِئْنَافِ تَكْبِيرٍ وَفِي ذَلِكَ كَالدَّلَالَةِ عَلَى اسْتِئْنَافِ الصَّلَاةِ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بغیر طہارت کے نماز قبول نہیں کی جاتی اور چوری کے مال سے صدقہ قبول نہیں کیا جاتا۔“
(ب) ان احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ حدث لاحق ہونے کے بعد نماز توڑ دینا فرض ہوتا ہے اور وضو کرنا بھی۔ اس لیے کہ نماز تکبیر سے شروع ہوتی ہے، لہٰذا نئے سرے سے تکبیر کہہ کر نماز شروع کرے۔
(ب) ان احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ حدث لاحق ہونے کے بعد نماز توڑ دینا فرض ہوتا ہے اور وضو کرنا بھی۔ اس لیے کہ نماز تکبیر سے شروع ہوتی ہے، لہٰذا نئے سرے سے تکبیر کہہ کر نماز شروع کرے۔
حدیث نمبر: 3381
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عِيسَى بْنِ حِطَّانَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ طَلْقٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا فَسَا أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَنْصَرِفْ فَلْيَتَوَضَّأْ وَلْيُعِدْ صَلَاتَهُ " وَهَذَا يُصَرِّحُ بِإِعَادَةِ الصَّلَاةِ وَبِهِ قَالَ: الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ مِنَ الصَّحَابَةِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی بن طلق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب کسی شخص کی نماز کے دوران ہوا خارج ہو جائے تو وہ جا کر وضو کرے اور نماز لوٹائے۔“
یہ حدیث نماز لوٹانے کے بارے میں صریح ہے اور صحابہ میں سے سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کا بھی یہی قول تھا۔
یہ حدیث نماز لوٹانے کے بارے میں صریح ہے اور صحابہ میں سے سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کا بھی یہی قول تھا۔