السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب منع التطهير بالنبيذ باب: نبیذ سے پاکی حاصل کرنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 33
ثُمَّ إِنَّ صِفَةَ أَنْبِذَتِهِمْ مَذْكُورَةٌ فِيمَا، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا أَبِي، ثنا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " كُنَّا نَنْبِذُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِقَاءٍ يُوكَى أَعْلَاهُ لَهُ ثَلَاثَةُ عَزَالِي تُعَلَّقُ نَنْبِذُهُ غُدْوَةً فَيَشْرَبُهُ عِشَاءً، وَنَنْبِذُهُ عِشَاءً فَيَشْرَبُهُ غُدْوَةً ". رَوَاهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيِّ بِمَعْنَاهُ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے لیے مشکیزے میں نبیذ بناتی تھیں جس کا منہ اوپر سے باندھ دیا جاتا تھا، آپ کے لیے تین مشکیزے لٹکائے جاتے تھے۔ ہم آپ ﷺ کے لیے صبح کے وقت نبیذ بناتیں تو آپ ﷺ شام کو پیتے اور جب ہم شام کو نبیذ بناتیں تو آپ ﷺ صبح کو پیتے۔
(ب) عبد الوہاب ثقفی سے اسی جیسی روایت بیان کی گئی ہے۔