السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب منع التطهير بالنبيذ باب: نبیذ سے پاکی حاصل کرنے کی ممانعت کا بیان
قَالَ: وَأنبأ أَبُو أَحْمَدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ تَمَّامٍ، نا الْمُسَيَّبُ بْنُ وَاضِحٍ، نا مُبَشِّرٌ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ مَوْقُوفًا. فَهَذَا حَدِيثٌ مُخْتَلَفٌ فِيهِ عَلَى الْمُسَيِّبِ بْنِ وَاضِحٍ وَهُوَ وَاهِمٌ فِيهِ فِي مَوْضِعَيْنِ، فِي ذِكْرِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَفِي ذِكْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْمَحْفُوظُ أَنَّهُ مِنْ قَوْلِ عِكْرِمَةَ غَيْرُ مَرْفُوعٍ، كَذَا رَوَاهُ هِقْلُ بْنُ الزَّيَّادِ، وَالْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ شَيْبَانُ النَّحْوِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، وَكَانَ الْمُسَيَّبُ رَحِمَنَا اللهُ تَعَالَى وَإِيَّاهُ كَثِيرَ الْوَهْمِ، وَرَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَرَّرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مِنْ قَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ. وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَرَّرٍ مَتْرُوكٌ وَرُوِيَ بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَرْفُوعًا، وَأَبَانُ مَتْرُوكٌ. قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ، فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ عَنْهُ: الْمَحْفُوظُ أَنَّهُ مِنْ قَوْلِ عِكْرِمَةَ غَيْرُ مَرْفُوعٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: وَقَدْ رَوَى الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا بِالْوُضُوءِ مِنَ النَّبِيذِ. وَرَوَاهُ أَبُو إِسْحَاقَ الْكُوفِيُّ وَاسْمُهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَيْسَرَةَ وَيُقَالُ لَهُ أَبُو لَيْلَى الْخُرَاسَانِيُّ، عَنْ مَزِيدَةَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ عَلِيٍّ: لَا بَأْسَ بِالْوُضُوءِ بِالنَّبِيذِ. وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مَيْسَرَةَ مَتْرُوكٌ، وَالْحَارِثُ الْأَعْوَرُ ضَعِيفٌ، وَالْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ لَا يُحْتَجُّ بِهِ. قَدْ ذَكَرْتُ أَقَاوِيلَ الْحُفَّاظِ فِيهِمْ فِي الْخِلَافِيَّاتِ.بشر نے ہمیں اسی سند کی طرح موقوف بیان کیا ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حارث نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نبیذ سے وضو کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیذ کے ساتھ وضو کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
اس حدیث میں مسیب بن واضح پر اختلاف کیا گیا ہے اور اسے اس میں دو جگہ وہم ہوا ہے: ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ذکر میں اور نبی ﷺ کے ذکر میں، اور محفوظ یہ ہے کہ یہ عکرمہ کا قول ہے، مرفوع نہیں، اور مسیب بہت زیادہ وہم کرنے والا تھا۔ عبداللہ بن محرر، جس نے اسے ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول بنا کر روایت کیا، متروک ہے، اور یہ ضعیف سند سے ابان بن ابی عیاش سے مرفوعاً بھی روایت کی گئی ہے اور ابان متروک ہے۔ امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: محفوظ یہ ہے کہ یہ عکرمہ کا قول ہے، نہ نبی ﷺ تک مرفوع ہے اور نہ ابن عباس رضی اللہ عنہما تک۔ عبداللہ بن میسرہ متروک ہے، حارث اعور ضعیف ہے اور حجاج بن ارطاۃ قابلِ حجت نہیں۔