حدیث نمبر: 3297
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: " مَا رَأَيْتُ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ قَطُّ إِلَّا مَحْلُولَ الْأَزْرَارِ " قَالَ سَعِيدٌ: وَحَدَّثَنِي زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ الْقُرَشِيُّ قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ الْمُسَيِّبِ وَأَبَا حَازِمٍ وَمُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ يُصَلُّونَ وَأَزْرَارُ قُمُصِهِمْ مُطْلَقَةٌ " وَرُوِّينَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلُ مَا رُوِّينَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ نَفْسِهِ وَهُوَ إِذَا كَانَ فِي الصَّلَاةِ مَحْمُولٌ عِنْدَنَا عَلَى مَا لَوْ كَانَ الْجَيْبُ ضَيِّقًا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

سعید بن ابی ایوب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے والد رحمہ اللہ نے حدیث بیان کی کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو ہمیشہ تہبند کھولے ہوئے ہی دیکھا۔
سعید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: مجھے زہرہ بن معبد قرشی رحمہ اللہ نے بتایا کہ میں نے ابن مسیب رحمہ اللہ، ابو حازم رحمہ اللہ اور محمد بن منکدر رحمہ اللہ کو دیکھا، یہ حضرات نماز پڑھتے اور ان کی قمیصوں کے ازار بند کھلے ہوتے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما کے واسطے سے بھی ہمیں روایت بیان کی گئی جس طرح کی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے۔
اور وہ جب نماز میں ہوتے، ہمارے نزدیک یہ اس صورت پر محمول ہوگا جب گریبان تنگ ہو۔ واللہ اعلم۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3297
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ اخرجه احمد 4/ 23»