أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، ⦗٣٤١⦘ عَنْ أَبِيهِ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: خَرَجْنَا إِلَى نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفْدًا حَتَّى قَدِمْنَا عَلَيْهِ فَبَايَعْنَاهُ وَصَلَّيْنَا مَعَهُ فَجَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ مَا تَرَى فِي الصَّلَاةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ؟ فَأَطْلَقَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِزَارَهُ وَطَارَقَ بِهِ رِدَاءَهُ وَاشْتَمَلَ بِهَا، وَقَامَ فَصَلَّى بِنَا، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ: " أَوَكُلُّكُمْ يَجِدُ ثَوْبَيْنِ؟ " وَالْأَحَادِيثُ الَّتِي رُوِّينَاهَا فِي صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ الْمُرَادُ بِهِ الرِّدَاءُ أَوْ مَا يُشْبِهُ الرِّدَاءَ وَاللهُ أَعْلَمُ.قیس بن طلق اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم وفد کی صورت میں رسول اللہ ﷺ کی طرف گئے، ہم نے آپ ﷺ سے بیعت کی اور آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی تو ایک شخص آیا اور کہنے لگا: ”اے اللہ کے نبی! ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟“ تو نبی ﷺ نے اپنے ازار بند کو چھوڑ دیا اور اس کے ساتھ اپنی چادر بھی چھوڑ دی اور اس چادر کو لپیٹ لیا اور کھڑے ہو گئے، پھر ہمیں نماز پڑھائی، جب آپ ﷺ نماز پڑھا چکے تو فرمایا: ”کیا تم میں سے ہر ایک کو دو دو کپڑے میسر ہیں؟“
وہ احادیث جو ہمیں نبی ﷺ کے ایک کپڑے میں لپٹ کر نماز پڑھنے کے بارے میں بیان کی گئی ہیں ان سے مراد چادر یا اس جیسا کوئی اور کپڑا ہے، واللہ اعلم۔