کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اس بات کی دلیل کہ اگر قمیص کا گریبان کشادہ ہو تو اس کے بٹن لگا لے اور اگر تنگ ہو تو اسے چھوڑ دے
حدیث نمبر: 3294
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي رَجُلٌ أَصِيدُ أَفَأُصَلِّي فِي الْقَمِيصِ الْوَاحِدِ؟ قَالَ: " نَعَمْ، وَزِرَّهُ وَلَوْ بِشَوْكَةٍ " ⦗٣٤٠⦘ رَوَاهُ أَبُو أُوَيْسٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ الْمَخْزُومِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَلَمَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں شکار کھیلتا ہوں تو کیا میں ایک قمیص میں نماز پڑھ سکتا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں پڑھ سکتے ہو۔ اسے باندھ لو اگرچہ ایک کانٹے سے ہی ہو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3294
حدیث نمبر: 3295
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ مَوْلًى لِقُرَيْشٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ مُعَاوِيَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ حَتَّى يَحْتَزِمَ " وَرَوَى عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: حُدِّثْتُ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ فِي قَمِيصٍ مَحْلُولَةٍ أَزْرَارُهُ مَخَافَةَ أَنْ يُرَى فَرْجُهُ إِذَا رَكَعَ حَتَّى يَزُرَّهُ قَالَ يَحْيَى: إِذْ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ أَزْرَارٌ وَهَذَا إِنْ كَانَ مُنْقَطِعًا فَهُوَ مُوَافِقٌ لِلْمَوْصُولِ قَبْلَهُ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) یزید بن خمیر سے روایت ہے کہ میں نے قریش کے ایک غلام کو کہتے ہوئے سنا: ابوہریرہ اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”نماز پڑھنے سے منع فرمایا جب تک کہ کمر پر پٹی نہ باندھ لی جائے“۔
(ب) عبداللہ بن مبارک ابن جریج سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے حدیث نقل کی کہ نبی ﷺ نے ”ایسی قمیص میں نماز ادا کرنے سے منع فرمایا ہے جس کا تہبند کھلا ہو“، اس لیے تاکہ رکوع کرتے وقت اس کی شرمگاہ نہ دیکھی جا سکے، اسے چاہیے کہ باندھ لے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3295
درجۂ حدیث محدثین: منكر
تخریج حدیث «منكر۔ اخرجه ابن سعد في الطبقات 4/ 175»
حدیث نمبر: 3296
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رَجَاءٍ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمِيمِيُّ، ثنا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يُصَلِّي مَحْلُولٌ أَزْرَارُهُ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ تَفَرَّدَ بِهِ زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَبَلَغَنِي عَنْ أَبِي عِيسَى التِّرْمِذِيِّ أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ مُحَمَّدًا يَعْنِي الْبُخَارِيَّ، عَنْ حَدِيثِ زُهَيْرٍ هَذَا، فَقَالَ: أَنَا أَتَّقِي هَذَا الشَّيْخَ كَأَنَّ حَدِيثَهُ مَوْضُوعٌ وَلَيْسَ هَذَا عِنْدِي بِزُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَكَانَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ يُضَعِّفُ هَذَا الشَّيْخَ وَيَقُولُ: هَذَا شَيْخٌ يَنْبَغِي أَنْ يَكُونُوا قَلَبُوا اسْمَهُ، وَأَشَارَ الْبُخَارِيُّ إِلَى بَعْضِ هَذَا فِي التَّارِيخِ وَرُوِيَ ذَلِكَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِنْ أَوْجُهٍ دُونَ السَّنَدِ.
حافظ ثناء اللہ
زید بن اسلم بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو نماز پڑھتے دیکھا اور ان کا تہبند کھلا ہوا تھا۔ میں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس طرح کرتے دیکھا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3296
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ وله طريق آخر عند البخاري في تاريخ 8/ 174۔ وسنده ايضا ضعيف»
حدیث نمبر: 3297
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: " مَا رَأَيْتُ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ قَطُّ إِلَّا مَحْلُولَ الْأَزْرَارِ " قَالَ سَعِيدٌ: وَحَدَّثَنِي زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ الْقُرَشِيُّ قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ الْمُسَيِّبِ وَأَبَا حَازِمٍ وَمُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ يُصَلُّونَ وَأَزْرَارُ قُمُصِهِمْ مُطْلَقَةٌ " وَرُوِّينَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلُ مَا رُوِّينَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ نَفْسِهِ وَهُوَ إِذَا كَانَ فِي الصَّلَاةِ مَحْمُولٌ عِنْدَنَا عَلَى مَا لَوْ كَانَ الْجَيْبُ ضَيِّقًا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن ابی ایوب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے والد رحمہ اللہ نے حدیث بیان کی کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو ہمیشہ تہبند کھولے ہوئے ہی دیکھا۔
سعید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: مجھے زہرہ بن معبد قرشی رحمہ اللہ نے بتایا کہ میں نے ابن مسیب رحمہ اللہ، ابو حازم رحمہ اللہ اور محمد بن منکدر رحمہ اللہ کو دیکھا، یہ حضرات نماز پڑھتے اور ان کی قمیصوں کے ازار بند کھلے ہوتے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما کے واسطے سے بھی ہمیں روایت بیان کی گئی جس طرح کی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے۔
اور وہ جب نماز میں ہوتے، ہمارے نزدیک یہ اس صورت پر محمول ہوگا جب گریبان تنگ ہو۔ واللہ اعلم۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3297
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ اخرجه احمد 4/ 23»