السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الدليل على أنه إنما يلتحف به إذا كان واسعا وإذا كان ضيقا اتزر به وجازت صلاته باب: اس بات کی دلیل کہ اگر کپڑا کشادہ ہو تو اسے اوڑھ لے گا اور اگر تنگ ہو تو اسے تہبند کے طور پر باندھ لے گا اور اس کی نماز جائز ہو جائے گی
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ يَحْيَى الْأَدَمِيُّ بِبَغْدَادَ ثنا أَحْمَدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ مِهْرَانَ السِّمْسَارُ، ثنا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ مُجَاهِدٍ أَبِي حَزْرَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ فِي مَسْجِدِهِ وَهُوَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُشْتَمِلًا بِهِ فَتَخَطَّيْتُ الْقَوْمَ حَتَّى جَلَسْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَقُلْتُ: يَرْحَمُكُ اللهُ أَتُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَهَذَا إِزَارُكَ إِلَى جَنْبِكَ؟ فَقَالَ: أَرَدْتُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيَّ الْأَحْمَقُ مِثْلُكَ فَيَرَانِي كَيْفَ أَصْنَعُ فَيَصْنَعُ مِثْلَهُ، فذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا فِيهِ: قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَعْنِي يُصَلِّي وَكَانَتْ عَلَيَّ بُرْدَةٌ ذَهَبْتُ أُخَالِفُ بَيْنَ طَرَفَيْهَا فَلَمْ تَبْلُغْ لِي وَكَانَتْ لَهَا ذُبَابٌ: فَنَكَّسْتُهَا ثُمَّ خَالَفْتُ بَيْنَ طَرَفَيْهَا ثُمَّ تَوَاقَصْتُ عَلَيْهَا فَجِئْتُ حَتَّى قُمْتُ عََنْ يَسَارِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَدَارَنِي حَتَّى أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَجَاءَ ابْنُ صَخْرٍ حَتَّى قَامَ، عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَنَا بِيَدَيْهِ جَمِيعًا فَدَفَعَنَا حَتَّى أَقَامَنَا خَلْفَهُ فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمُقُنِي وَأَنَا لَا أَشْعُرُ ثُمَّ فَطِنْتُ بِهِ فَقَالَ: " هَكَذَا " يَعْنِي شُدَّ وَسَطَكَ فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَا جَابِرُ " قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " إِذَا كَانَ وَاسِعًا فَخَالِفْ بَيْنَ طَرَفَيْهِ وَإِذَا كَانَ ضَيِّقًا فَاشْدُدْهُ عَلَى حَقْوَتِكَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ هَارُونَ بْنِ مَعْرُوفٍ وَغَيْرِهِ.عبادہ بن ولید بن صامت روایت کرتے ہیں کہ ہم سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس ان کی مسجد میں آئے۔ وہ ایک کپڑے کو لپیٹے نماز پڑھ رہے تھے۔ میں لوگوں کو پھلانگتا ہوا ان کے پاس جا پہنچا اور ان کے اور قبلے کے درمیان جا بیٹھا اور میں نے عرض کیا: ”اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے، کیا آپ ایک کپڑے میں نماز ادا کر رہے ہیں جب کہ آپ کا تہبند یہ رہا آپ کے پہلو میں؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”میں چاہتا ہوں کہ میرے پاس تمہارے جیسے نادان آئیں تو وہ مجھے دیکھیں کہ میں کیسے کرتا ہوں اور وہ بھی اس طرح کریں۔“
رسول اللہ ﷺ (سفر جہاد میں) نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور میرے اوپر ایک دھاری دار چادر تھی۔ میں اس کے کنارے الٹنے لگا (تاکہ گردن سے باندھ لوں)، لیکن وہ وہاں تک نہ پہنچ سکی۔ میں نے اسے الٹ دیا۔ پھر میں نے اس کے کناروں کو مخالف سمت کر لیا (یعنی داہنے کنارے کو بائیں طرف اور بائیں کنارے کو داہنی طرف)۔ پھر میں نے اسے (گرنے سے بچانے کے لیے) جھک کر گردن سے روکے رکھا۔ پھر میں رسول اللہ ﷺ کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا، آپ نے مجھے میرے ہاتھ سے پکڑ کر گھمایا اور اپنی داہنی طرف کھڑا کر دیا۔
اتنے میں ابن صخر رضی اللہ عنہ آگئے اور آپ کے بائیں جانب کھڑے ہو گئے۔ آپ ﷺ نے ہم دونوں کو پکڑ کر اپنے پیچھے کھڑا کر دیا۔ ہم آپ ﷺ کے پیچھے کھڑے ہوئے۔ رسول اللہ ﷺ مجھے مسلسل دیکھ رہے تھے، لیکن میں سمجھ نہیں پا رہا تھا۔ پھر میں سمجھ گیا۔ آپ ﷺ نے مجھے اشارہ کیا یعنی تہبند باندھ لو، جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”جابر!“ میں نے عرض کیا: ”حاضر ہوں اے اللہ کے رسول!“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب کپڑا وسیع ہو تو دایاں کنارہ بائیں کندھے پر اور بایاں کنارہ داہنے کندھے پر ڈال لیا کرو اور اگر کپڑا چھوٹا ہو تو اسے کمر پر باندھ لو۔“