السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الدليل على أنه إنما يلتحف به إذا كان واسعا وإذا كان ضيقا اتزر به وجازت صلاته باب: اس بات کی دلیل کہ اگر کپڑا کشادہ ہو تو اسے اوڑھ لے گا اور اگر تنگ ہو تو اسے تہبند کے طور پر باندھ لے گا اور اس کی نماز جائز ہو جائے گی
حدیث نمبر: 3290
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادٍ، ⦗٣٣٩⦘ عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي مِرْطٍ بَعْضُهُ عَلَيَّ وَبَعْضُهُ عَلَيْهِ وَأَنَا حَائِضٌ وَكَذَلِكَ ثَبَتَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَفِيهِ دَلِيلٌ عَلَى جَوَازِالصَّلَاةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ عَلَى عَاتِقِهِ مِنْهُ شَيْءٌ.حافظ ثناء اللہ
(ا) ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کبھی کبھار ایک بڑی چادر میں نماز پڑھتے، اس کا کچھ حصہ مجھ پر ہوتا اور کچھ حصہ آپ پر ہوتا، اگرچہ میں حائضہ بھی ہوتی۔
(ب) اسی طرح کی حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی ثابت ہے۔
(ج) اس حدیث میں ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے جواز کی دلیل ہے، اگرچہ آدمی کے کندھوں پر اس کپڑے کا کچھ بھی حصہ نہ ہو۔