السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الدليل على أنه إنما يلتحف به إذا كان واسعا وإذا كان ضيقا اتزر به وجازت صلاته باب: اس بات کی دلیل کہ اگر کپڑا کشادہ ہو تو اسے اوڑھ لے گا اور اگر تنگ ہو تو اسے تہبند کے طور پر باندھ لے گا اور اس کی نماز جائز ہو جائے گی
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّهُ أَتَى جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ وَنَفَرًا قَدْ سَمَّاهُمْ قَالَ: فَلَمَّا دَخَلْنَا عَلَيْهِ وَجَدْنَاهُ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ مُلْتَحِفًا بِهِ وَرِدَاؤُهُ قَرِيبًا ⦗٣٣٨⦘ مِنْهُ لَوْ تَنَاوَلَهُ بَلَغَهُ قَالَ: فَلَمَّا سَلَّمَ سَأَلْنَاهُ، عَنْ صَلَاتِهِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، فَقَالَ: أَفْعَلُ هَذَا لِيَرَانِيَ الْحَمْقَى أَمْثَالُكُمْ فَيُفْشُونَ عَنْ جَابِرٍ رُخْصَةً رَخَّصَهَا لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنِّي خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فَجِئْتُهُ لَيْلَةً لِبَعْضِ أَمْرِي فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي وَعَلَيَّ ثَوْبٌ وَاحِدٌ فَاشْتَمَلْتُ بِهِ وَصَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: " مَا السُّرَى يَا جَابِرُ؟ " فَأَخْبَرْتُهُ بِحَاجَتِي قَالَ: " يَا جَابِرُ مَا هَذَا الِاشْتِمَالُ الَّذِي رَأَيْتُ؟ " فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَانَ ثَوْبًا وَاحِدًا ضَيِّقًا، فَقَالَ: " إِذَا صَلَّيْتَ وَعَلَيْكَ ثَوْبٌ وَاحِدٌ، فَإِنْ كَانَ وَاسِعًا فَالْتَحِفْ بِهِ، وَإِنْ كَانَ ضَيِّقًا فَاتَّزِرْ بِهِ " قَالَ الشَّيْخُ: فِي كِتَابِي: سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْحَارِثِ بِخَطِّ الشِّيرَازِيِّ، وَالصَّوَابُ سَعِيدُ بْنُ الْحَارِثِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ صَالِحٍ، عَنْ فُلَيْحٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ.سعید بن حارث بیان کرتے ہیں کہ ہم جماعت کی صورت میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ ایک ہی کپڑا لپیٹے نماز پڑھ رہے تھے اور ان کی چادر ان کے پاس ہی پڑی تھی، اگر وہ اس کو لینا چاہتے تو لے سکتے تھے۔ جب انہوں نے نماز سے سلام پھیرا تو ہم نے ان سے ان کے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ کسی سفر میں تھا تو میں رات کے وقت کسی ذاتی کام کی وجہ سے آپ ﷺ کے پاس حاضر ہوا تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھتے دیکھا اور آپ ﷺ پر بھی ایک ہی کپڑا تھا، تو میں نے اس کپڑے کو لپیٹ لیا اور ان کے پہلو میں کھڑا ہو گیا۔ جب آپ ﷺ نے نماز سے سلام پھیرا تو فرمایا: ”اے جابر! رات کے وقت کیسے آنا ہوا؟“ تو میں نے اپنی حاجت آپ کے سامنے بیان کر دی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے جابر! یہ کیا ہے جو میں دیکھ رہا ہوں؟“ تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کپڑا ایک تھا اور تنگ بھی تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تو اس حالت میں نماز پڑھے کہ تیرے پاس صرف ایک کپڑا ہو، اگر وہ بڑا ہو تو اس کو لپیٹ لے اور اگر وہ تنگ ہو تو تہبند باندھ لے۔“