حدیث نمبر: 3273
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ: تَخَلَّفْتُ يَوْمًا فِي عَلَفِ الرِّكَابِ فَدَخَلَ عَلَيَّ ابْنُ عُمَرَ وَأَنَا أُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، فَقَالَ لِي: أَلَمْ تُكْسَ ثَوْبَيْنِ؟ قُلْتُ: بَلَى قَالَ: أَرَأَيْتَ لَوْ بَعَثْتُكَ إِلَى بَعْضِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ أَكُنْتَ تَذْهَبُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ؟ قُلْتُ: لَا قَالَ: فَاللهُ أَحَقُّ أَنْ يُتَجَمَّلَ لَهُ أَمِ النَّاسُ؟ ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ عُمَرُ: " مَنْ كَانَ لَهُ ثَوْبَانِ فَلْيُصَلِّ فِيهِمَا، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ فَلْيَتَّزِرْ بِهِ وَلَا يَشْتَمِلْ كَاشْتِمَالِ الْيَهُودِ ".
حافظ ثناء اللہ

نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن میں سواریوں کو چارہ ڈالنے کی وجہ سے پیچھے رہ گیا تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما میرے پاس تشریف لائے اور میں ایک کپڑے میں نماز پڑھ رہا تھا۔ انہوں نے مجھے کہا: کیا تجھے دو کپڑے نہیں پہنائے گئے تھے؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں۔ انہوں نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر میں تمہیں اہل مدینہ میں سے کسی کے پاس بھیجوں تو کیا تم ایک ہی کپڑے میں چلے جاؤ گے؟ میں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے فرمایا: تو اللہ زیادہ حق دار ہے کہ اس کے لیے خوبصورتی اختیار کی جائے یا لوگ؟ پھر فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ”جس کے پاس دو کپڑے ہوں تو وہ ان دونوں میں نماز پڑھے اور جس کے پاس صرف ایک ہی کپڑا ہو تو وہ اس کو کمر میں باندھ دے اور یہودیوں کی طرح چادر نہ لپیٹے کہ ہاتھ باہر نہ نکل سکیں۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3273
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»