السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما يستحب للرجل أن يصلي فيه من الثياب باب: مرد کے لیے کن کپڑوں میں نماز پڑھنا مستحب ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 3272
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ الضُّبَعِيُّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ: رَآنِي ابْنُ عُمَرَ وَأَنَا أُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، فَقَالَ: أَلَمْ أَكْسِكَ؟ قُلْتُ: بَلَى قَالَ: فَلَوْ بَعَثْتُكَ كُنْتَ تَذْهَبُ هَكَذَا؟ قُلْتُ: لَا قَالَ: فَاللهُ أَحَقُّ أَنْ تُزَيَّنَ لَهُ؟ ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فِي ثَوْبٍ فَلْيَشُدَّهُ عَلَى حَقْوِهِ وَلَا تَشْتَمِلُوا كَاشْتِمَالِ الْيَهُودِ ".حافظ ثناء اللہ
نافع بیان کرتے ہیں کہ مجھے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک کپڑے میں نماز پڑھتے دیکھا تو فرمایا: کیا میں نے تجھے کپڑے نہیں پہنائے؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، ضرور پہنائے ہیں، تو انہوں نے کہا: اگر تمہیں میں اسی حالت میں کسی طرف بھیجوں تو کیا چلے جاؤ گے؟ میں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے فرمایا: پھر اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ حق دار ہے کہ اس کے لیے زیب و زینت اختیار کی جائے۔ پھر فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی ایک کپڑے میں نماز پڑھے تو وہ اپنی کمر یا کوکھ پر باندھ لے اور یہودیوں کی طرح چادر نہ لپیٹے کہ ہاتھ بھی باہر نہ نکل سکیں۔“