السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما يستحب للرجل أن يصلي فيه من الثياب باب: مرد کے لیے کن کپڑوں میں نماز پڑھنا مستحب ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 3274
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ، أنبأ الْحَسَنُ، ثنا يُوسُفُ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ: احْتَبَسْتُ لَهُ فِي عَلَفِ الرِّكَابِ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ: قَالَ عُمَرُ، وَأَكْثَرُ ظَنِّي أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِيُصَلِّ أَحَدُكُمْ فِي ثَوْبَيْنِ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ إِلَّا ثَوْبًا وَاحِدًا فَلْيَتَّزِرْ بِهِ وَلَا يَشْتَمِلْ اشْتِمَالَ الْيَهُودِ " وَرَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ هَكَذَا بِالشَّكِّ.حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں سواریوں کی خدمت (چارہ وغیرہ ڈالنے) کی وجہ سے رک گیا۔۔۔ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے، راوی کہتے ہیں: میرا گمان یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک دو کپڑوں میں نماز ادا کرے اور اگر صرف ایک کپڑا میسر ہو تو اسی کو باندھ لے اور یہودیوں کی طرح چادر نہ لپیٹے کہ ہاتھ باہر نہ نکل سکیں۔“