السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما يستحب للرجل أن يصلي فيه من الثياب باب: مرد کے لیے کن کپڑوں میں نماز پڑھنا مستحب ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 3271
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْمَدِينِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ، ثنا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ - وَلَا يَرَى نَافِعٌ إِلَّا أَنَّهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَلْبَسْ ثَوْبَيْهِ فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَحَقُّ أَنْ يُزَيَّنَ لَهُ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ ثَوْبَانِ فَلْيَأْتَزِرْ إِذَا صَلَّى وَلَا يَشْتَمِلْ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ اشْتِمَالَ الْيَهُودِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز پڑھنے لگے تو وہ دو کپڑے پہن لے کیونکہ اللہ تعالیٰ زیادہ مستحق ہے کہ اس کے لیے زینت اختیار کی جائے، لہٰذا اگر کسی کے پاس دو کپڑے نہ ہوں تو وہ تہبند باندھ لیا کرے اور تم میں سے کوئی بھی اپنی نماز میں کپڑے کو نہ لپیٹے یعنی یہودیوں کی طرح چادر لپیٹنا کہ ہاتھ نہ نکل سکیں۔“