السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الترغيب في أن تكثف ثيابها أو تجعل تحت درعها ثوبا إن خشيت أن يصفها درعها باب: اس بات کی ترغیب کہ عورت اپنے کپڑے دبیز (موٹے) رکھے یا اپنی قمیص کے نیچے کوئی اور کپڑا پہن لے اگر اسے یہ اندیشہ ہو کہ قمیص سے اس کے جسم کی ساخت ظاہر ہو جائے گی
حدیث نمبر: 3266
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، فِي حَدِيثِ عَائِشَةَ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَبِكُ تَحْتَ الدِّرْعِ فِي الصَّلَاةِ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ أَنْبَأَهُ حَجَّاجٌ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ شَبِيبٍ، عَنْ عَائِشَةَ. قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ الِاحْتِبَاكُ: شَدُّ الْإِزَارِ، وَإِحْكَامُهُ، يَعْنِي أَنَّهَا كَانَتْ لَا تُصَلِّي إِلَّا مُؤْتَزِرَةً.حافظ ثناء اللہ
(ا) ابوعبید سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کرتے ہیں کہ وہ نماز میں قمیص کے نیچے کمر بند یا پیٹی باندھ لیا کرتی تھیں۔
(ب) ابو عبید کہتے ہیں: «اَلِاحْتِبَاكُ» سے مراد تہبند کو مضبوطی سے باندھنا ہے، یعنی وہ کمر بند کس کر نماز پڑھتی تھیں۔