السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الترغيب في أن تكثف ثيابها أو تجعل تحت درعها ثوبا إن خشيت أن يصفها درعها باب: اس بات کی ترغیب کہ عورت اپنے کپڑے دبیز (موٹے) رکھے یا اپنی قمیص کے نیچے کوئی اور کپڑا پہن لے اگر اسے یہ اندیشہ ہو کہ قمیص سے اس کے جسم کی ساخت ظاہر ہو جائے گی
حدیث نمبر: 3265
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ، عَنْ أُمِّهِ أَنَّهَا قَالَتْ: دَخَلَتْ حَفْصَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَلَى عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ وَعَلَى حَفْصَةَ خِمَارٌ رَقِيقٌ فَشَقَّتْهُ عَائِشَةُ وَكَسَتْهَا خِمَارًا كَثِيفًا ".حافظ ثناء اللہ
علقمہ بن ابی علقمہ اپنی والدہ سے نقل کرتے ہیں کہ حفصہ بنت عبدالرحمن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوئیں اور سیدہ حفصہ پر ایک باریک چادر تھی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کو پھاڑ دیا اور انھیں ایک موٹی چادر پہنا دی۔