السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الترغيب في أن تكثف ثيابها أو تجعل تحت درعها ثوبا إن خشيت أن يصفها درعها باب: اس بات کی ترغیب کہ عورت اپنے کپڑے دبیز (موٹے) رکھے یا اپنی قمیص کے نیچے کوئی اور کپڑا پہن لے اگر اسے یہ اندیشہ ہو کہ قمیص سے اس کے جسم کی ساخت ظاہر ہو جائے گی
حدیث نمبر: 3267
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، فِي حَدِيثِ عَائِشَةَ أَنَّهَا كَرِهَتْ أَنْ تُصَلِّيَ الْمَرْأَةُ عَطَلًا وَلَوْ أَنْ تُعَلِّقَ فِي عُنُقِهَا خَيْطًا " قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: حَدَّثَنِيهِ الْفَزَارِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ذَلِكَ. قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: قَوْلُهُ: عَطَلًا يَعْنِي الَّتِي لَا حُلِيَّ عَلَيْهَا، ⦗٣٣٣⦘ وَثَابِتٌ عَنْ عَائِشَةَ فِي نِسَاءٍ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ كُنَّ يَشْهَدْنَ الصَّلَاةَ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ.حافظ ثناء اللہ
(ا) ابوعبید سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کرتے ہیں کہ وہ عورت کے بے زیور نماز پڑھنے کو ناپسند سمجھتی تھیں، اگرچہ وہ اپنی گردن میں کوئی دھاگا ہی لٹکا لے۔
(ب) ابوعبید کہتے ہیں: «مُطْلًا» سے مراد وہ عورت ہے جو زیور سے خالی ہو۔
(ج) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مومن عورتوں کے بارے میں منقول ہے کہ وہ (رسول اللہ ﷺ کے ساتھ) نماز میں شریک ہوتی تھیں اور اپنی چادروں میں لپٹی ہوئی ہوتی تھیں۔