حدیث نمبر: 3267
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، فِي حَدِيثِ عَائِشَةَ أَنَّهَا كَرِهَتْ أَنْ تُصَلِّيَ الْمَرْأَةُ عَطَلًا وَلَوْ أَنْ تُعَلِّقَ فِي عُنُقِهَا خَيْطًا " قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: حَدَّثَنِيهِ الْفَزَارِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ذَلِكَ. قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: قَوْلُهُ: عَطَلًا يَعْنِي الَّتِي لَا حُلِيَّ عَلَيْهَا، ⦗٣٣٣⦘ وَثَابِتٌ عَنْ عَائِشَةَ فِي نِسَاءٍ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ كُنَّ يَشْهَدْنَ الصَّلَاةَ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ.
حافظ ثناء اللہ

(ا) ابوعبید سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کرتے ہیں کہ وہ عورت کے بے زیور نماز پڑھنے کو ناپسند سمجھتی تھیں، اگرچہ وہ اپنی گردن میں کوئی دھاگا ہی لٹکا لے۔
(ب) ابوعبید کہتے ہیں: «مُطْلًا» سے مراد وہ عورت ہے جو زیور سے خالی ہو۔
(ج) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مومن عورتوں کے بارے میں منقول ہے کہ وہ (رسول اللہ ﷺ کے ساتھ) نماز میں شریک ہوتی تھیں اور اپنی چادروں میں لپٹی ہوئی ہوتی تھیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3267
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه البخاري 365»