السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الترغيب في أن تكثف ثيابها أو تجعل تحت درعها ثوبا إن خشيت أن يصفها درعها باب: اس بات کی ترغیب کہ عورت اپنے کپڑے دبیز (موٹے) رکھے یا اپنی قمیص کے نیچے کوئی اور کپڑا پہن لے اگر اسے یہ اندیشہ ہو کہ قمیص سے اس کے جسم کی ساخت ظاہر ہو جائے گی
حدیث نمبر: 3264
أَخْبَرَنَاهُ الْفَقِيهُ أَبُو مَنْصُورٍ عَبْدُ الْقَاهِرِ بْنُ طَاهِرٍ، مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ وَأَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ وَأَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَمْدَانَ الْفَارِسِيُّ وَأَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ جَعْفَرٍ الصَّفَّارُ قَالُوا: أنبأ أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ يَعْنِي التَّيْمِيَّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " تُصَلِّي الْمَرْأَةُ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ دِرْعٍ وَخِمَارٍ وَإِزَارٍ " وَرُوِّينَا عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا " صَلَّتْ فِي دِرْعٍ وَخِمَارٍ ثُمَّ، قَالَتْ: نَاوِلِينِي الْمِلْحَفَةَ " وَعَنْ عَائِشَةَ نَحْوَ ذَلِكَ، وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا سُئِلَتْ عَنِ الْخِمَارِ: فَقَالَتْ إِنَّمَا الْخِمَارُ مَا وَارَى الْبَشَرَةَ وَالشَّعَرَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”عورت تین کپڑوں میں نماز پڑھے: قمیص، چادر میں اور تہبند میں۔“
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ انہوں نے قمیص اور چادر میں نماز پڑھی، پھر فرمایا: ”مجھے اوڑھنے والی چادر دے دو۔“
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی اسی طرح منقول ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اوڑھنی کے بارے دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”چادر وہ ہوتی ہے جو جلد اور بالوں کو ڈھانپ لے۔“