السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الترغيب في أن تكثف ثيابها أو تجعل تحت درعها ثوبا إن خشيت أن يصفها درعها باب: اس بات کی ترغیب کہ عورت اپنے کپڑے دبیز (موٹے) رکھے یا اپنی قمیص کے نیچے کوئی اور کپڑا پہن لے اگر اسے یہ اندیشہ ہو کہ قمیص سے اس کے جسم کی ساخت ظاہر ہو جائے گی
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَسَا النَّاسَ الْقَبَاطِيَّ ثُمَّ قَالَ: " لَا تَدْرَعَنَّهَا نِسَاؤُكُمْ " فَقَالَ رَجُلٌ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَدْ أَلْبَسْتُهَا امْرَأَتِي فَأَقْبَلَتْ فِي الْبَيْتِ وَأَدْبَرَتْ فَلَمْ أَرَهُ يَشِفُّ، فَقَالَ عُمَرُ: " إِنْ لَمْ يَكُنْ يَشِفُّ فَإِنَّهُ يَصِفُ " وَقَدْ رَوَاهُ أَيْضًا مُسْلِمٌ الْبَطِينُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ عُمَرَ، وَلِمَعْنَى هَذَا الْمُرْسَلِ شَاهِدٌ بِإِسْنَادٍ مَوْصُولٍ.عبداللہ بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو قبطی کپڑے پہنائے، پھر فرمایا: ”اس سے اپنی عورتوں کی قمیص نہ بنانا۔“ تو ایک آدمی نے کہا: اے امیر المومنین! میں نے اپنی بیوی کو پہنا دی ہے، اس کے بعد وہ گھر میں چلی پھری لیکن میں نے اس میں باریکی نہیں دیکھی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر وہ باریک نہیں ہے تو ٹھیک ہے۔“
ہمیں فقیہ ابو منصور عبد القاہر بن طاہر نے اپنی کتاب کی اصل سے، اور ابو نصر عمر بن عبد العزیز بن عمر بن قتادہ، اور ابو القاسم عبد الرحمٰن بن علی بن حمدان الفارسی، اور ابو نصر احمد بن عبد الرحمٰن بن احمد بن جعفر الصفار نے خبر دی، ان سب نے کہا: ہمیں ابو عمرو اسماعیل بن نجید السلمی نے خبر دی، ہمیں ابو مسلم نے بتایا، ہمیں محمد بن عبد اللہ الانصاری نے بتایا، ہمیں سلیمان یعنی تیمی نے محمد بن سیرین سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، اور انہوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا: «تُصَلِّي الْمَرْأَةُ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ: دِرْعٍ، وَخِمَارٍ، وَإِزَارٍ» ”عورت تین کپڑوں میں نماز پڑھے: قمیص، دوپٹہ اور تہبند۔“
اور ہمیں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے قمیص اور دوپٹے میں نماز پڑھی، پھر فرمایا: «نَاوِلِينِي الْمِلْحَفَةَ» ”مجھے چادر پکڑا دو۔“
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ان سے دوپٹے کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: «إِنَّمَا الْخِمَارُ مَا وَارَى الْبَشَرَ وَالشَّعَرَ» ”دوپٹہ وہی ہے جو جلد اور بالوں کو چھپا لے۔“