السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الترغيب في أن تكثف ثيابها أو تجعل تحت درعها ثوبا إن خشيت أن يصفها درعها باب: اس بات کی ترغیب کہ عورت اپنے کپڑے دبیز (موٹے) رکھے یا اپنی قمیص کے نیچے کوئی اور کپڑا پہن لے اگر اسے یہ اندیشہ ہو کہ قمیص سے اس کے جسم کی ساخت ظاہر ہو جائے گی
حدیث نمبر: 3263
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَسَا النَّاسَ الْقَبَاطِيَّ ثُمَّ قَالَ: " لَا تَدْرَعَنَّهَا نِسَاؤُكُمْ " فَقَالَ رَجُلٌ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَدْ أَلْبَسْتُهَا امْرَأَتِي فَأَقْبَلَتْ فِي الْبَيْتِ وَأَدْبَرَتْ فَلَمْ أَرَهُ يَشِفُّ، فَقَالَ عُمَرُ: " إِنْ لَمْ يَكُنْ يَشِفُّ فَإِنَّهُ يَصِفُ " وَقَدْ رَوَاهُ أَيْضًا مُسْلِمٌ الْبَطِينُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ عُمَرَ، وَلِمَعْنَى هَذَا الْمُرْسَلِ شَاهِدٌ بِإِسْنَادٍ مَوْصُولٍ.حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو قبطی کپڑے پہنائے، پھر فرمایا: ”اس سے اپنی عورتوں کی قمیص نہ بنانا۔“ تو ایک آدمی نے کہا: اے امیر المومنین! میں نے اپنی بیوی کو پہنا دی ہے، اس کے بعد وہ گھر میں چلی پھری لیکن میں نے اس میں باریکی نہیں دیکھی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر وہ باریک (جھلکنے والا) نہیں ہے تو بھی وہ (جسم کی) بناوٹ ظاہر کرتا ہے۔“
اس مرسل روایت کے معنی کی ایک شاہد روایت موصول سند سے موجود ہے۔