السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الترغيب في أن تكثف ثيابها أو تجعل تحت درعها ثوبا إن خشيت أن يصفها درعها باب: اس بات کی ترغیب کہ عورت اپنے کپڑے دبیز (موٹے) رکھے یا اپنی قمیص کے نیچے کوئی اور کپڑا پہن لے اگر اسے یہ اندیشہ ہو کہ قمیص سے اس کے جسم کی ساخت ظاہر ہو جائے گی
حدیث نمبر: 3262
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، أنبأ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَسَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُبْطِيَّةً كَثِيفَةً أَهْدَاهَا لَهُ دِحْيَةُ الْكَلْبِيُّ فَكَسَوْتُهَا امْرَأَتِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا لَكَ لَا تَلْبَسُ الْقُبْطِيَّةَ؟ " قُلْتُ: كَسَوْتُهَا امْرَأَتِي، فَقَالَ: " مُرْهَا فَلْتَجْعَلْ تَحْتَهَا غِلَالَةً فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ تَصِفَ عِظَامَهَا ".حافظ ثناء اللہ
محمد بن اسامہ بن زید اپنے والد (سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما) سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایک موٹی قبطی چادر پہنائی جو انہیں دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ نے تحفہ کی تھی۔ میں نے وہ چادر اپنی زوجہ محترمہ کو پہنا دی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے خود کیوں نہیں رکھی؟“ میں نے کہا: میں نے وہ اپنی بیوی کو پہنا دی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر اس کو کہہ دو کہ اس کے نیچے کوئی بنیان یا شمیز پہن لے، مجھے ڈر ہے کہ اس کی ہڈیاں نظر نہ آنے لگیں۔“