السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من ذكر صلاة وهو في أخرى باب: اس شخص کا بیان جسے ایک نماز کے دوران دوسری نماز یاد آ جائے
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، ثنا بَقِيَّةُ، ثنا عُمَرُ بْنُ أَبِي عُمَرَ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ صَلَاةً فَذَكَرَهَا، وَهُوَ فِي صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ فَلْيَبْدَأْ بِالَّتِي هُوَ فِيهَا، فَإِذَا فَرَغَ صَلَّى الَّتِي نَسِيَ " قَالَ أَبُو أَحْمَدَ رَحِمَهُ اللهُ: عُمَرُ بْنُ أَبِي عُمَرَ مَجْهُولٌ لَا أَعْلَمُ يَرْوِي عَنْهُ غَيْرُ بَقِيَّةَ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَجُمَّاعُ مَا يُفَارِقُ الْمَرْأَةَ فِيهِ الرَّجُلُ مِنْ أَحْكَامِ الصَّلَاةِ رَاجِعٌ إِلَى السِّتْرِ، وَهُوَ أَنَّهَا مَأْمُورَةٌ بِكُلِّ مَا كَانَ أَسْتَرَ لَهَا وَالْأَبْوَابُ الَّتِي تَلِي هَذِهِ تَكْشِفُ عَنْ مَعْنَاهُ وَتُفَصِّلُهُ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.(ا) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز پڑھنا بھول جائے، پھر اس کو فرض نماز ادا کرتے ہوئے وہ نماز یاد آ جائے تو اسی کو جاری رکھے جو پڑھ رہا ہے۔ جب اس سے فارغ ہو، پھر وہ قضا کر لے جو بھول گیا تھا۔“
ابو احمد (ابن عدی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عمر بن ابی عمر مجہول ہے، میں نہیں جانتا کہ بقیہ کے علاوہ کسی نے اس سے روایت کی ہو۔
(ب) شیخ بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نماز کے تمام احکام جو ستر سے متعلقہ ہیں ان میں مرد اور عورت میں فرق ہے؛ اس لیے کہ عورت ہر اس چیز کے کرنے پر مامور ہے جو اس کے لیے زیادہ پردے کا باعث بنے۔
آئندہ ابواب میں ان کی تفصیل اور اس کے معنی کی وضاحت موجود ہے۔ وباللہ التوفیق۔