السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: لا تفريط على من نام عن صلاة، أو نسيها حتى ذهب وقتها، وعليه قضاؤها إذا ذكرها، لا كفارة لها إلا ذلك باب: اس شخص پر کوئی کوتاہی نہیں جو نماز سے سو گیا، یا اسے بھول گیا یہاں تک کہ اس کا وقت نکل گیا، اور جب اسے یاد آئے تو اس پر اس کی قضا لازم ہے، اس کے سوا اس کا کوئی کفارہ نہیں
حدیث نمبر: 3185
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نَذِيرِ بْنِ جَنَاحٍ الْمُحَارِبِيُّ بِالْكُوفَةِ أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، أنبأ عُبَيْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ مُوسَى، أنبأ إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ هُوَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَرَّ عَلَيَّ الشَّيْطَانُ فَتَنَاوَلْتُهُ فَأَخَذْتُهُ فَخَنَقْتُهُ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ لِسَانِهِ عَلَى يَدِي " وَقَالَ: " أَوْجَعْتَنِي أَوْجَعْتَنِي، وَلَوْلَا مَا دَعَا سُلَيْمَانُ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَأَصْبَحَ مُنَاطًا إِلَى أُسْطُوَانَةٍ مِنْ أَسَاطِينِ الْمَسْجِدِ يَنْظُرُ إِلَيْهِ وِلْدَانُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ " ⦗٣١١⦘ تَابَعَهُ جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ، فَرَوَاهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے پاس ایک بار شیطان آیا، میں نے اس کو پکڑ لیا اور اس کا گلا گھونٹا حتیٰ کہ مجھے اس کی زبان کی سردی اپنے ہاتھ پر محسوس ہوگئی۔ وہ کہنے لگا: آپ نے مجھے تکلیف دی ہے، اگر سلیمان علیہ السلام نے دعا نہ کی ہوتی کہ ﴿رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَّا يَنبَغِي لِأَحَدٍ﴾ [سورة ص: 35] تو ضرور یہ صبح کو مسجد کے کسی ستون کے ساتھ بندھا ہوا ہوتا اور اہل مدینہ کے بچے اس کو دیکھتے۔“