السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: قضاء الصلوات الأولى فالأولى باب: نمازوں کی قضا ترتیب وار (پہلے کی پہلے) ادا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3186
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، أنبأ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: جَاءَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ فَجَعَلَ يَسُبُّ كُفَّارَ قُرَيْشٍ وَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا صَلَّيْتُ صَلَاةَ الْعَصْرِ حَتَّى كَادَتْ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَأَنَا وَاللهِ مَا صَلَّيْتُهَا بَعْدُ " قَالَ: " فَنَزَلَ إِلَى بُطْحَانَ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى الْعَصْرَ بَعْدَ مَا غَابَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ بَعْدَهَا ".حافظ ثناء اللہ
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ خندق کے روز حضرت عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کافروں کو برا کہنے لگے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے سورج ڈوبنے کے قریب عصر کی نماز پڑھی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں تو غروبِ آفتاب تک بھی نہ پڑھ سکا۔“ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: پھر ہم بطحان نامی جگہ میں اترے، آپ ﷺ نے وضو فرمایا اور غروبِ آفتاب کے بعد نمازِ عصر پڑھی، پھر اس کے بعد مغرب کی نماز ادا کی۔