السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: لا تفريط على من نام عن صلاة، أو نسيها حتى ذهب وقتها، وعليه قضاؤها إذا ذكرها، لا كفارة لها إلا ذلك باب: اس شخص پر کوئی کوتاہی نہیں جو نماز سے سو گیا، یا اسے بھول گیا یہاں تک کہ اس کا وقت نکل گیا، اور جب اسے یاد آئے تو اس پر اس کی قضا لازم ہے، اس کے سوا اس کا کوئی کفارہ نہیں
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَفَلَ مِنْ غَزْوَةِ خَيْبَرَ سَارَ لَيْلَةً حَتَّى إِذَا أَدْرَكَهُ الْكَرَى عَرَّسَ، وَقَالَ لِبِلَالٍ: " اكْلَأْ لَنَا اللَّيْلَ " فَصَلَّى بِلَالٌ مَا قُدِّرَ لَهُ وَنَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ، فَلَمَّا تَقَارَبَ الْفَجْرُ اسْتَنَدَ بِلَالٌ إِلَى رَاحِلَتِهِ مُوَاجِهَ الْفَجْرِ، فَغَلَبَتْ بِلَالًا عَيْنَاهُ وَهُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَى رَاحِلَتِهِ فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا بِلَالٌ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِهِ حَتَّى ضَرَبَتْهُمُ الشَّمْسُ، فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلَهُمُ اسْتِيقَاظًا فَفَزِعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَيْ بِلَالُ " فَقَالَ بِلَالٌ: أَخَذَ بِنَفْسِي الَّذِي أَخَذَ بِنَفْسِكَ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " اقْتَادُوا "، فَاقْتَادُوا رَوَاحِلَهُمْ شَيْئًا ثُمَّ تَوَضَّأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ الصَّلَاة فَصَلَّى بِهُمُ الصُّبْحَ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ: " مَنْ نَسِيَ الصَّلَاةَ فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ {أَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي} [طه: ١٤] " قَالَ يُونُسُ: وَكَانَ ابْنُ شِهَابٍ يَقْرَؤُهَا " لِذِكْرَى " وَفِي حَدِيثِ أَحْمَدَ " لِلذِّكْرَى " قَالَ يُونُسُ وَكَانَ ابْنُ شِهَابٍ يَقْرَؤُهَا كَذَلِكَ قَالَ أَحْمَدُ قَالَ عَنْبَسَةُ، يَعْنِي عَنْ يُونُسَ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ " لِذِكْرَى " قَالَ أَحْمَدُ: الْكَرَى النُّعَاسُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ حَرْمَلَةَ.سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب غزوہ خیبر سے واپس تشریف لا رہے تھے تو آپ ﷺ نے رات کو کوچ کیا، یہاں تک کہ ہمیں نیند آنے لگی تو آپ ﷺ نے ایک جگہ پڑاؤ ڈال دیا اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم رات کو ہماری نگرانی کرو۔“ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھی جو ان کے مقدر میں تھی اور رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم سو گئے، جب فجر کا وقت قریب آیا تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سواری کے ساتھ ٹیک لگا کر مشرق کی طرف رخ کر کے بیٹھ گئے۔ ان پر نیند کا غلبہ ہوا اور وہ بھی سواری کے ساتھ سہارا لیے ہوئے سو گئے۔ نبی ﷺ، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ یا آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم میں سے کوئی بھی بیدار نہ ہوا یہاں تک کہ ان پر دھوپ آگئی۔ سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ بیدار ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے گھبرا کر آواز دی: ”اے بلال!“ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، جس ذات نے آپ پر نیند طاری کی، اسی نے مجھ پر بھی نیند طاری کی۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہاں سے کوچ کر جاؤ۔“ پھر سب نے وہاں سے کچھ فاصلے تک کوچ کیا۔ پھر نبی ﷺ نے وضو کیا اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے نماز کے لیے اقامت کہی اور آپ ﷺ نے صبح کی نماز پڑھائی۔ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”جو شخص نماز پڑھنا بھول جائے تو جب بھی یاد آئے نماز پڑھ لے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿أَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي﴾ [سورة طه: 14] ”میری یاد کی خاطر نماز قائم کرو۔““
یونس کہتے ہیں: ابن شہاب اس کو «لِلذِّكْرَى» پڑھتے تھے۔
یونس کہتے ہیں کہ ابن شہاب اس کو اسی طرح پڑھتے تھے۔
امام احمد رحمہ اللہ کہتے ہیں: عنبسہ نے یونس کی سند سے «لِذِكْرِي» بیان کیا ہے۔ امام احمد رحمہ اللہ کہتے ہیں: الکری کا مطلب نیند اور اونگھ ہے۔