السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من لم ير القنوت في صلاة الصبح باب: اس شخص کا بیان جو فجر کی نماز میں قنوت کا قائل نہیں ہے
حدیث نمبر: 3156
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي: يَا أَبَتِ أَلَيْسَ قَدْ صَلَّيْتَ خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَخَلَفَ أَبِي بَكْرٍ، وَخَلَفَ عُمَرَ؟ قَالَ: بَلَى قُلْتُ: فَكَانُوا يَقْنُتُونَ فِي الْفَجْرِ؟ قَالَ: " يَا بُنِيَّ مُحْدَثَةٌ " طَارِقُ بْنُ أَشْيَمَ الْأَشْجَعِيُّ لَمْ يَحْفَظْهُ عَمَّنْ صَلَّى خَلْفَهُ، فَرَآهُ مُحْدَثًا وَقَدْ حَفِظَهُ غَيْرُهُ، فَالْحُكْمُ لَهُ دُونَهُ.حافظ ثناء اللہ
(الف) ابو مالک اشجعی سے روایت ہے کہ میں نے اپنے والد محترم سے عرض کیا: ابا جان! کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے پیچھے نمازیں پڑھی ہیں؟ انہوں نے فرمایا: کیوں نہیں! میں نے کہا: کیا وہ فجر کی نماز میں قنوت پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: میرے بیٹے! یہ تو بدعت ہے۔
(ب) طارق بن اشیم اشجعی نے اس سے روایت یاد ہی نہیں کی جس کے پیچھے انہوں نے نماز پڑھی، اس لیے وہ اس کو بدعت سمجھتے تھے حالانکہ یہ روایت ان کے علاوہ حضرات نے یاد کی ہے، لہٰذا اس کا حکم ان کے مخالف ہوگا۔