السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من لم ير القنوت في صلاة الصبح باب: اس شخص کا بیان جو فجر کی نماز میں قنوت کا قائل نہیں ہے
حدیث نمبر: 3155
وَقَدْ رَوَى أَبُو حَمْزَةَ الْأَعْوَرُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: " قَنَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى عُصَيَّةَ، وَذَكْوَانَ، فَلَمَّا ظَهَرَ عَلَيْهِمْ تَرَكَ الْقُنُوتَ " أَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو غَسَّانَ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، فَذَكَرَهُ وَقَدْ رُوِّينَا عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ رَحِمَهُ اللهُ، أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّمَا تَرَكَ اللَّعْنَ ".حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ماہ تک قنوت پڑھی، جس میں عصیہ اور ذکوان پر بددعا کرتے رہے۔ پھر جب آپ پر معاملہ ظاہر ہو گیا (یعنی وحی آ گئی) تو آپ نے قنوت ترک کر دی۔
(ب) عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے صرف بددعا کرنا ترک کی تھی۔