حدیث نمبر: 3142
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلَانِيُّ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الْقَاهِرِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو عَلَى مُضَرَ إِذْ جَاءَهُ جَبْرَئِيلُ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَنِ اسْكُتْ فَسَكَتَ، فَقَالَ: " يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللهَ لَمْ يَبْعَثْكَ سَبَّابًا وَلَا لَعَّانًا، وَإِنَّمَا بَعَثَكَ رَحْمَةً، وَلَمْ يَبْعَثْكَ عَذَابًا {لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ} [آل عمران: ١٢٨] ثُمَّ عَلَّمَهُ هَذَا الْقُنُوتَ: اللهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِينُكَ وَنَسْتَغْفِرُكَ، وَنُؤْمِنُ بِكَ، وَنَخْضَعُ لَكَ، وَنَخْلَعُ وَنَتْرُكُ مَنْ يَكْفُرُكَ، اللهُمَّ إِيَّاكَ نَعْبُدُ، وَلَكَ نُصَلِّي وَنَسْجُدُ وَإِلَيْكَ نَسْعَى وَنَحْفِدُ، وَنَرْجُو رَحْمَتِكَ وَنَخْشَى عَذَابَكَ، وَنَخَافُ عَذَابَكَ الْجِدَّ إِنَّ عَذَابَكَ بِالْكَافِرِينَ مُلْحِقٌ " هَذَا مُرْسَلٌ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ صَحِيحًا مَوْصُولًا.
حافظ ثناء اللہ

خالد بن ابی عمران رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ نبی کریم ﷺ کفارِ مُضر پر بددعا کر رہے تھے۔ اچانک جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے۔ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو اشارہ کر کے فرمایا: ”خاموش ہو جائیے!“ تو رسول اللہ ﷺ چپ ہو گئے۔ پھر انھوں نے کہا: ”اے محمد ﷺ! اللہ تعالیٰ نے آپ کو گالیاں دینے والا اور بددعا کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا۔ اس نے تو آپ کو رحمت بنا کر بھیجا ہے نہ کہ عذاب بنا کر۔ ﴿لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ﴾ [سورة آل عمران: 128] آپ کے اختیار میں کچھ نہیں، اللہ چاہے تو ان کی توبہ قبول کرلے یا عذاب دے، کیونکہ وہ ظالم ہیں۔“ پھر جبرائیل علیہ السلام نے رسول اللہ ﷺ کو یہ قنوت سکھلائی: «اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِينُكَ وَنَسْتَغْفِرُكَ وَنُؤْمِنُ بِكَ وَنَخْضَعُ لَكَ وَنَخْلَعُ وَنَتْرُكُ مَنْ يَكْفُرُكَ، اللَّهُمَّ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَلَكَ نُصَلِّي وَنَسْجُدُ وَإِلَيْكَ نَسْعَى وَنَحْفِدُ، نَرْجُو رَحْمَتَكَ وَنَخْشَى عَذَابَكَ، إِنَّ عَذَابَكَ بِالْكَافِرِينَ مُلْحِقٌ» ”اے اللہ! ہم تجھ سے مدد چاہتے ہیں اور تجھ سے بخشش طلب کرتے ہیں اور تجھ پر ایمان لاتے ہیں۔ تیرے لیے ہی خشوع و خضوع کرتے ہیں اور جو تیرا منکر ہے اس سے ہر قسم کا ناطہ توڑتے ہیں اور اس کو چھوڑتے ہیں۔ اے اللہ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تیرے لیے ہی نماز پڑھتے ہیں اور تیرے لیے ہی سجدہ کرتے ہیں، تیری طرف ہی بھاگتے ہیں اور تیرے ہر حکم کے لیے تیار ہیں۔ تیری رحمت کے امیدوار ہیں اور تیرے سخت عذاب سے ڈرتے ہیں۔ بلاشبہ تیرا عذاب کافروں کو ملنے والا ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3142
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه ابوداود في المراسيل»