حدیث نمبر: 3141
وَرُوِّينَا عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ حَسَّانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ، ثنا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْرَقُ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ هُرْمُزَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ ⦗٢٩٨⦘ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا دُعَاءً نَدْعُو بِهِ فِي الْقُنُوتِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ " اللهُمَّ اهْدِنَا فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنَا فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنَا فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لَنَا فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنَا شَرَّ مَا قَضَيْتَ، إِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، إِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ " رَوَاهُ مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ الْحَرَّانِيُّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ فَذَكَرَ رِوَايَةَ بُرَيْدٍ مُرْسَلَةً فِي تَعْلِيمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدَ ابْنَيِ ابْنَتِهِ هَذَا الدُّعَاءَ فِي وِتْرِهِ، ثُمَّ قَالَ بُرَيْدٌ: سَمِعْتُ ابْنَ الْحَنَفِيَّةِ، وَابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولَانِ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهَا فِي قُنُوتِ اللَّيْلِ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو صَفْوَانَ الْأُمَوِيُّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ هُرْمُزَ، وَقَالَ فِي حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ الْحَنَفِيَّةِ: " فِي قُنُوتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ " فَصَحَّ بِهَذَا كُلِّهِ أَنَّ تَعْلِيمَهُ هَذَا الدُّعَاءَ وَقَعَ لِقُنُوتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَقُنُوتِ الْوِتْرِ وَأَنَّ بُرَيْدًا أَخَذَ الْحَدِيثَ مِنَ الْوَجْهَيْنِ اللَّذَيْنِ ذَكَرْنَاهُمَا، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں دعا سکھایا کرتے تھے۔ ہم اسے فجر کی نماز میں پڑھا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ اهْدِنَا فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنَا فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنَا فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لَنَا فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنَا شَرَّ مَا قَضَيْتَ، فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ» ”اے اللہ! ہمیں ہدایت دے کر ان لوگوں میں شامل فرما جنہیں تو نے رشد و ہدایت سے نوازا ہے اور ہمیں عافیت دے کر ان میں شامل فرما جنہیں تو نے عافیت دی ہے اور جن کو تو نے اپنا دوست قرار دیا ہے ان میں ہمیں بھی شامل فرما کر اپنا دوست بنا اور جو کچھ تو نے ہمیں عطا فرمایا ہے اس میں ہمارے لیے برکت ڈال اور جس برائی اور شر کا تو نے فیصلہ کیا ہے اس سے ہمیں محفوظ رکھ اور بچا لے۔ یقیناً تو ہی فیصلہ کرنے والا ہے، تیرے خلاف فیصلہ نہیں کیا جا سکتا اور جس کا تو والی بنے وہ کبھی ذلیل و خوار نہیں ہو سکتا۔ اے ہمارے رب! تو ہی برکتوں والا اور بلند و بالا ہے۔“
(ب) مخلد بن یزید کی روایت میں ہے کہ نبی ﷺ نے اپنے نواسوں سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما میں سے کسی کو قنوتِ وتر کی دعا سکھائی ہے۔
یزید نے کہا کہ میں نے ابن حنفیہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما دونوں کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ اس دعا کو رات کی قنوت میں پڑھتے تھے: (ج) اسی طرح اس روایت کو ابوصفوان اموی نے ابن جریج سے روایت کیا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابن حنفیہ کی حدیث میں ہے کہ «فِي قُنُوتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ» ”صبح کی نماز کی قنوت میں“ پڑھتے تھے۔
(د) یہ درست ہے کہ آپ ﷺ نے جو دعا سکھائی ہے، یہ صبح کی نماز کی قنوت اور قنوتِ وتر دونوں کے بارے میں ہے اور برید نے یہ حدیث دو سندوں سے ذکر کی ہے۔ وباللہ التوفیق۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3141
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ تقدم في الذي قبله»