السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: القنوت في الصلوات عند نزول نازلة باب: کوئی مصیبت نازل ہونے پر نمازوں میں قنوت پڑھنے کا بیان
وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ إِمْلَاءً أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ عَلَى شَيْءٍ قَطُّ، مَا وَجَدَ عَلَى أَصْحَابِ بِئْرِ مَعُونَةَ وَأَصْحَابِ سَرِيَّةِ الْمُنْذِرِ بْنِ عَمْرٍو، فَمَكَثَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى الَّذِينَ أَصَابُوهُمْ فِي قُنُوتِ صَلَاةِ الْغَدَاةِ يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ وَلَحْيَانَ "، وَرَوَاهُ قَتَادَةُ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، وَأَبُو مِجْلَزٍ لَاحَقُ بْنُ حُمَيْدٍ وَأَنَسُ بْنُ سِيرِينَ، وَمُوسَى بْنُ أَنَسٍ وَعَاصِمُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلُ كُلُّهُمْ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَقَالُوا فِي الْحَدِيثِ: شَهْرًا وَرَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسٍ كَذَلِكَ ثَلَاثِينَ صَبَاحًا، وَرَوَاهُ هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ إِسْحَاقَ، فَقَالَ: أَرْبَعِينَ صَبَاحًا، وَالصَّحِيحُ ثَلَاثِينَ وَقَدْ رُوِيَ ذَلِكَ أَيْضًا عَنْ هَمَّامٍ وَرُوِيَ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسٍ فِي قِصَّةِ الْعُرَنِيِّينَ قَالَ: فَأَرْسَلَ فِي آثَارِهِمْ بَعْدَ أَنْ دَعَا عَلَيْهِمْ فِي صَلَاتِهِ خَمْسًا وَعِشْرِينَ مَرَّةً وَتِلْكَ الْقِصَّةُ غَيْرُ هَذِهِ، وَالْمَحْفُوظُ عَنْ حُمَيْدٍ فِي قِصَّةِ الْقُرَّاءِ مَا.(ا) سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اتنا غمگین اور پریشان کبھی نہیں دیکھا جتنا بئر معونہ والوں اور سریہ منذر بن عمرو کی وجہ سے ہوئے۔ آپ ﷺ ایک ماہ تک فجر کی نماز میں ان لوگوں پر بددعا کرتے رہے جنہوں نے ان صحابہ کو شہید کیا تھا اور آپ ﷺ رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان پر بددعا کرتے تھے۔
(ب) قتادہ رحمہ اللہ، عبدالعزیز بن صہیب رحمہ اللہ، ابو مجلز لاحق بن حمید رحمہ اللہ، انس بن سیرین رحمہ اللہ، موسیٰ بن انس رحمہ اللہ اور عاصم بن سلیمان احول رحمہ اللہ سب حضرات سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے «شَهْرًا» ”ایک مہینہ“ کے الفاظ روایت کرتے ہیں، یعنی ایک مہینہ تک آپ ﷺ نے بددعا کی۔
(ج) ابن ہمام رحمہ اللہ، اسحاق رحمہ اللہ کے واسطے سے چالیس دن روایت کرتے ہیں۔
(د) ۳۰ دن والی روایت صحیح ہے۔
(ہ) حمید طویل رحمہ اللہ سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے واسطے سے عرنیین کا قصہ منقول ہے کہ آپ ﷺ نے پندرہ دن تک نماز میں ان پر بددعا کی۔ اس کے بعد ان کے پیچھے دستہ روانہ کیا، یہ دونوں الگ الگ قصے ہیں۔