السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: القنوت في الصلوات عند نزول نازلة باب: کوئی مصیبت نازل ہونے پر نمازوں میں قنوت پڑھنے کا بیان
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، " أَنَّ رِعْلًا، وَذَكْوَانَ، وَعُصَيَّةَ، وَبَنِي لَحْيَانَ اسْتَمَدُّوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَدُوًّا فَأَمَدَّهُمْ بِسَبْعِينَ مِنَ الْأَنْصَارِ كُنَّا نُسَمِّيهِمُ الْقُرَّاءُ فِي زَمَانِهِمْ كَانُوا يَحْتَطِبُونَ بِالنَّهَارِ وَيُصَلُّونَ بِاللَّيْلِ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبِئْرِ مَعُونَةَ قَتَلُوهُمْ وَغَدَرُوا بِهِمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَنَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا يَدْعُو فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ عَلَى أَحْيَاءٍ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ عَلَى ⦗٢٨٤⦘ رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ وَبَنِي لَحْيَانَ قَالَ أَنَسٌ فَقَرَأْنَا بِهِمْ قُرْآنًا، ثُمَّ إِنَّ ذَلِكَ رُفِعَ (بَلِّغُوا قَوْمَنَا أَنَّا قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ حَمَّادٍ النَّرْسِيِّ.سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان کے لوگوں نے دشمن کے خلاف مدد کی درخواست کی تو رسول اللہ ﷺ نے ستر صحابہ کو ان کی مدد کے لیے روانہ کیا، ان کو ہم اپنے زمانے کے قراء کہا کرتے تھے، وہ دن کو لکڑیاں اکٹھی کرتے تھے اور رات کو قیام کرتے تھے حتیٰ کہ جب یہ بئرِ معونہ کے مقام پر پہنچے تو ان مذکورہ قبائل نے انہیں شہید کر دیا اور ان کے ساتھ دھوکا کیا۔ جب نبی ﷺ کو اس واقعہ کی خبر ہوئی تو آپ ایک مہینہ تک فجر کی نماز میں قبائلِ عرب کے کچھ قبیلوں رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان پر بددعا کرتے رہے۔ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم ان کے بارے میں قرآن پڑھتے رہے، پھر یہ حکم اٹھا لیا گیا: ”ہماری قوم کے افراد کو پیغام پہنچا دو کہ ہم اپنے رب کے پاس پہنچ گئے، وہ ہم سے راضی ہو گیا اور اس نے ہمیں راضی کر دیا۔“