السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: القنوت في الصلوات عند نزول نازلة باب: کوئی مصیبت نازل ہونے پر نمازوں میں قنوت پڑھنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ يَعْقُوبَ الْإِيَادِيُّ الْمَالِكِيُّ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ خَلَّادٍ النَّصِيبِيُّ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: كَانَ شَبَابٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ ثُمَّ يَتَنَحَّوْنَ فِي نَاحِيَةِ الْمَدِينَةِ يَحْسَبُ أَهْلُوهُمْ أَنَّهُمْ فِي الْمَسْجِدِ، وَيَحْسَبُ أَهْلُ الْمَسْجِدِ أَنَّهُمْ فِي أَهْلِيهِمْ فَيُصَلُّونَ مِنَ اللَّيْلِ حَتَّى إِذَا تَقَارَبَ الصُّبْحُ احْتَطَبَ بَعْضُهُمْ، وَاسْتَقَى بَعْضُهُمْ مِنَ الْمَاءِ الْعَذْبِ ثُمَّ يُقْبِلُونَ حَتَّى يَضَعُوا حِزَمَهُمْ وَقِرَبَهُمْ عَلَى أَبْوَابِ حُجَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَبَعَثَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بِئْرِ مَعُونَةَ فَاسْتُشْهِدُوا كُلُّهُمْ، فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَنْ قَتَلَهُمْ خَمْسَ عَشْرَةَ لَيْلَةً " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَلْقَمَةُ بْنُ أَبِي عَلْقَمَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: فَدَعَا عَلَى مَنْ قَتَلَهُمْ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ مُرْسَلًا خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا ⦗٢٨٥⦘ وَالرِّوَايَاتُ فِي الشَّهْرِ أَشْهَرُ وَأَكْثَرُ وَأَصَحُّ وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ وَأَكْثَرُ الرِّوَايَاتِ عَنْ أَنَسٍ فِي إِثْبَاتِ الْقُنُوتِ فِي صَّلَاةِ الصُّبْحِ، وَقَدْ ثَبَتَ عَنْهُ فِي الْمَغْرِبِ أَيْضًا.(ا) حمید طویل سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ انصار کے نوجوان غور سے قرآن سنتے، پھر مسجد کے گوشوں میں علیحدہ ہو کر بیٹھ جاتے، ان کے گھر والے سمجھتے کہ شاید وہ مسجد میں ہیں اور مسجد والے سمجھتے کہ وہ گھر پر ہیں، وہ رات کو نمازیں پڑھتے رہتے حتیٰ کہ جب صبح کا وقت قریب آتا تو بعض لکڑیاں جمع کرنے چلے جاتے، بعض تازہ پانی لانے چل پڑتے، پھر وہ واپس آتے اپنی گٹھڑیاں اور مشکیزے رسول اللہ ﷺ کے حجروں کے دروازوں پر رکھ دیتے۔ نبی ﷺ نے انہیں بئر معونہ کی طرف بھیجا تو وہاں ان سب کو شہید کر دیا گیا۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے پندرہ راتوں تک ان کے قاتلوں پر بددعا کی۔
(ب) اسی طرح اس کو علقمہ بن ابی علقمہ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا گیا ہے۔ اس میں فرماتے ہیں کہ رسول ﷺ نے ان کے قاتلوں پر پندرہ دن بددعا کی۔
(ج) اسی طرح جعفر بن محمد نے بھی اپنے والد سے مرسل روایت نقل کی ہے جو پندرہ دن کے بارے میں ہے۔
(د) لیکن مہینہ والی روایات زیادہ مشہور، واضح اور زیادہ صحیح ہیں۔ «وَاللهُ أَعْلَمُ» ”اور اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے“۔ اکثر روایات سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے صبح کی نماز میں قنوت کے اثبات کی ہیں، اسی طرح سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مغرب کی نماز میں بھی ثابت ہے۔