السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: في سكتتي الإمام باب: امام کے دو سکتوں (خاموشیوں) کے بیان میں
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو يَعْقُوبَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أنبأ مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، ⦗٢٨٠⦘ عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ لَهُ سَكْتَتَانِ "، فَقَالَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ: مَا أَحْفَظُهُمَا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَتَبُوا فِيهِ إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، فَكَتَبَ أُبَيٌّ أَنَّ سَمُرَةَ قَدْ حَفِظَ قُلْنَا لِقَتَادَةَ مَا السَّكْتَتَانِ؟ قَالَ: " سَكْتَةٌ حِينَ يُكَبِّرُ، وَالْأُخْرَى حِينَ يَفْرُغُ مِنَ الْقِرَاءَةِ عِنْدَ الرُّكُوعِ، ثُمَّ قَالَ: الْأُخْرَى، يَعْنِي الْمَرَّةَ الْأُخْرَى، سَكْتَةٌ حِينَ يُكَبِّرُ وَسَكْتَةٌ إِذَا قَالَ: غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ".سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی نماز میں دو سکتے ہوتے تھے۔ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے تو رسول اللہ ﷺ سے دو یاد نہیں کیے۔ انہوں نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی طرف خط میں یہ مسئلہ لکھ بھیجا تو ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے لکھا کہ سمرہ رضی اللہ عنہ نے درست یاد کیے ہیں۔ ہم نے قتادہ رحمہ اللہ سے پوچھا: وہ سکتے کیا ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک سکتہ جب تکبیر کہہ کر نماز شروع کرے اور دوسرا رکوع کے وقت قراءت سے فارغ ہونے کے بعد، پھر فرمایا: دوسرا تکبیر تحریمہ کے وقت اور ایک سکتہ ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ [سورة الفاتحة: 7] کے بعد۔