حدیث نمبر: 3073
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَبَّرَ فِي الصَّلَاةِ سَكَتَ هُنَيَّةً قَبْلَ أَنْ يَقْرَأَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَرَأَيْتَكَ سُكُوتَكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ مَا تَقُولُ؟ قَالَ: " أَقُولُ: اللهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللهُمَّ نَقِّنِي مِنْ خَطَايَايَ كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضِ مِنَ الدَّنَسِ، اللهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لیے تکبیر (تحریمہ) کہتے تو قراءت سے تھوڑی دیر پہلے خاموش رہتے۔ میں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، تکبیر اور قراءت کے درمیان آپ جو سکوت کرتے ہیں اس میں کیا پڑھتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں پڑھتا ہوں: «اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ، كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ» ”اے اللہ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان دوری ڈال دے، جس طرح تو نے مشرق و مغرب کے درمیان دوری ڈال دی۔ اے باری تعالیٰ! مجھے میرے گناہوں سے اس طرح پاک صاف کر دے جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے۔ الٰہی! میرے گناہ مجھ سے دھو ڈال برف، پانی اور اولوں کے ساتھ۔““
حدیث نمبر: 3074
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا أَبُو كَامِلٍ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ، ثنا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ زِيَادٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي كَامِلٍ، وَعَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَرِيرٍ.
حافظ ثناء اللہ
عمارہ بن قعقاع رحمہ اللہ کی سند سے اسی جیسی حدیث منقول ہے۔
حدیث نمبر: 3075
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، أنبأ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَمْعَانَ قَالَ: أَتَانَا أَبُو هُرَيْرَةَ فِي مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ، فَقَالَ: ثَلَاثٌ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُنَّ تَرَكَهُنَّ النَّاسُ: " يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ مَدًّا، وَيَسْكُتُ بَعْدَ الْقِرَاءَةِ هُنَيَّةً يَسْأَلُ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ فَضْلِهِ، وَيُكَبِّرُ إِذَا رَكَعَ وَإِذَا خَفَضَ " كَذَا فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ بَعْدَ الْقِرَاءَةِ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن سمعان سے روایت ہے کہ ہمارے پاس سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مسجد بنو زریق میں تشریف لائے اور فرمایا: ”تین کام ایسے ہیں جنہیں رسول اللہ ﷺ کیا کرتے تھے اور لوگوں نے انہیں چھوڑ دیا ہے: آپ ﷺ جب نماز شروع کرتے تو اچھی طرح ہاتھ پھیلا کر کانوں تک اٹھاتے اور قراءت کے بعد کچھ دیر خاموش رہتے جس میں اللہ سے اس کے فضل کا سوال کرتے اور رکوع میں جاتے اور اٹھتے وقت تکبیر کہتے تھے۔“ اس روایت میں «بَعْدَ الْقِرَاءَةِ» ”قراءت کے بعد“ کے الفاظ ہیں۔
حدیث نمبر: 3076
وَرَوَاهُ عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، فَقَالَ: فِي الْحَدِيثِ: وَكَانَ يَسْكُتُ قَبْلَ الْقِرَاءَةِ هُنَيَّةً أَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ أَبِي قُمَاشٍ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ فَذَكَرَهُ وَبِهَذَا الْمَعْنَى رَوَاهُ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْحَنَفِيُّ وَغَيْرُهُ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
عاصم بن علی نے ابن ابی ذئب سے یہ روایت بیان کی ہے، اس میں ہے کہ آپ ﷺ قراءت سے پہلے تھوڑی دیر خاموش رہتے۔
حدیث نمبر: 3077
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَزِيدُ، ثنا سَعِيدٌ، ثنا قَتَادَةُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ، وَعِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا تَذَاكَرَا فَحَدَّثَ سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ أَنَّهُ " حَفِظَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَكْتَتَيْنِ: سَكْتَةً إِذَا كَبَّرَ، وَسَكْتَةً إِذَا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ {غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ} [الفاتحة: ٧] " فَحَفِظَ ذَلِكَ سَمُرَةُ وَأَنْكَرَ عَلَيْهِ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ فَكَتَبَا فِي ذَلِكَ إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَكَانَ فِي كِتَابِهِ إِلَيْهِمَا أَوْ فِي رَدِّهِ عَلَيْهِمَا أَنَّ سَمُرَةَ قَدْ حَفِظَ وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: وَسَكْتَةً إِذَا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ السُّورَةِ، وَلَمْ يَذْكُرِ الْفَاتِحَةَ، وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) حسن بصری رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ سمرہ بن جندب اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہما آپس میں مذاکرہ کر رہے تھے۔ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے دو سکتے یاد کیے ہیں۔ ایک سکتہ تکبیر کے بعد اور دوسرا ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ [سورة الفاتحة: 7] کی قراءت سے فارغ ہونے کے بعد۔ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ اس پر انکار کرنے لگے تو انہوں نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں خط لکھا۔ انہوں نے ان کی طرف لکھا کہ واقعی سمرہ نے درست یاد کیا ہے۔
(ب) اس حدیث کو محمد بن منہال نے یزید بن زریع کے واسطہ سے روایت کیا ہے۔ اس میں ہے کہ ایک سکتہ سورہ کی قراءت سے فارغ ہونے کے بعد تھا۔ انہوں نے فاتحہ کا ذکر نہیں کیا۔
(ب) اس حدیث کو محمد بن منہال نے یزید بن زریع کے واسطہ سے روایت کیا ہے۔ اس میں ہے کہ ایک سکتہ سورہ کی قراءت سے فارغ ہونے کے بعد تھا۔ انہوں نے فاتحہ کا ذکر نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 3078
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: قَالَ سَمُرَةُ " حَفِظْتُ سَكْتَتَيْنِ فِي الصَّلَاةِ سَكْتَةً إِذَا كَبَّرَ الْإِمَامُ حَتَّى يَقْرَأَ، وَسَكْتَةً إِذَا فَرَغَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ عِنْدَ الرُّكُوعِ قَالَ: فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ قَالَ: فَكَتَبُوا فِي ذَلِكَ إِلَى أُبَيٍّ بِالْمَدِينَةِ فَصَدَّقَ سَمُرَةَ وَقِيلَ عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ يُونُسَ وَإِذَا قَرَأَ {وَلَا الضَّالِّينَ} [الفاتحة: ٧] سَكَتَ سَكْتَةً وَلَمْ يَذْكُرِ السُّورَةَ وَقَالَ حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنِ الْحَسَنِ وَسَكْتَةً إِذَا فَرَغَ مِنَ الْقِرَاءَةِ، وَقَالَ أَشْعَثُ: عَنِ الْحَسَنِ إِذَا فَرَغَ مِنَ الْقِرَاءَةِ كُلِّهَا وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ هَذَا التَّفْسِيرُ وَقَعَ مِنْ رِوَايَةٍ، عَنِ الْحَسَنِ؛ فَلِذَلِكَ اخْتَلَفُوا وَيَدُلُّ عَلَيْهِ.
حافظ ثناء اللہ
حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”مجھے نماز میں دو سکتے یاد ہیں: پہلا سکتہ امام کے تکبیر کہنے کے بعد سے قراءت شروع کرنے تک اور دوسرا سکتہ جب امام سورہ فاتحہ اور دوسری سورت کی قراءت سے فارغ ہو جائے۔“
راوی فرماتے ہیں کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے اس کا انکار کیا۔ پھر انہوں نے اس مسئلے کے بارے میں خط لکھ کر مدینہ میں سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا تو انہوں نے سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ کی تصدیق کی۔
ایک قول ہیثم سے یونس کے واسطے سے منقول ہے کہ جب آپ ﷺ نے ﴿وَلَا الضَّالِّينَ﴾ [سورة الفاتحة: 7] پڑھا تو ”کچھ دیر کے لیے خاموش ہو گئے۔“ انہوں نے سورت کا ذکر نہیں کیا۔
حمید طویل، حسن کے واسطے سے بیان کرتے ہیں کہ ”ایک سکتہ آپ ﷺ اس وقت فرماتے تھے جب قراءت سے فارغ ہوتے۔“
اشعث، حسن سے نقل کرتے ہیں کہ ”جب آپ ﷺ قراءت سے فارغ ہوتے تو سکتہ کرتے۔“
یہاں پر یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ یہ تفسیر حسن سے روایت کرنے والوں نے کی ہو۔ اسی وجہ سے ان کے درمیان اختلاف ہے اور یہ دلیل ہے۔
راوی فرماتے ہیں کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے اس کا انکار کیا۔ پھر انہوں نے اس مسئلے کے بارے میں خط لکھ کر مدینہ میں سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا تو انہوں نے سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ کی تصدیق کی۔
ایک قول ہیثم سے یونس کے واسطے سے منقول ہے کہ جب آپ ﷺ نے ﴿وَلَا الضَّالِّينَ﴾ [سورة الفاتحة: 7] پڑھا تو ”کچھ دیر کے لیے خاموش ہو گئے۔“ انہوں نے سورت کا ذکر نہیں کیا۔
حمید طویل، حسن کے واسطے سے بیان کرتے ہیں کہ ”ایک سکتہ آپ ﷺ اس وقت فرماتے تھے جب قراءت سے فارغ ہوتے۔“
اشعث، حسن سے نقل کرتے ہیں کہ ”جب آپ ﷺ قراءت سے فارغ ہوتے تو سکتہ کرتے۔“
یہاں پر یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ یہ تفسیر حسن سے روایت کرنے والوں نے کی ہو۔ اسی وجہ سے ان کے درمیان اختلاف ہے اور یہ دلیل ہے۔
حدیث نمبر: 3079
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو يَعْقُوبَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أنبأ مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، ⦗٢٨٠⦘ عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ لَهُ سَكْتَتَانِ "، فَقَالَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ: مَا أَحْفَظُهُمَا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَتَبُوا فِيهِ إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، فَكَتَبَ أُبَيٌّ أَنَّ سَمُرَةَ قَدْ حَفِظَ قُلْنَا لِقَتَادَةَ مَا السَّكْتَتَانِ؟ قَالَ: " سَكْتَةٌ حِينَ يُكَبِّرُ، وَالْأُخْرَى حِينَ يَفْرُغُ مِنَ الْقِرَاءَةِ عِنْدَ الرُّكُوعِ، ثُمَّ قَالَ: الْأُخْرَى، يَعْنِي الْمَرَّةَ الْأُخْرَى، سَكْتَةٌ حِينَ يُكَبِّرُ وَسَكْتَةٌ إِذَا قَالَ: غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ".
حافظ ثناء اللہ
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی نماز میں دو سکتے ہوتے تھے۔ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے تو رسول اللہ ﷺ سے دو یاد نہیں کیے۔ انہوں نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی طرف خط میں یہ مسئلہ لکھ بھیجا تو ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے لکھا کہ سمرہ رضی اللہ عنہ نے درست یاد کیے ہیں۔ ہم نے قتادہ رحمہ اللہ سے پوچھا: وہ سکتے کیا ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک سکتہ جب تکبیر کہہ کر نماز شروع کرے اور دوسرا رکوع کے وقت قراءت سے فارغ ہونے کے بعد، پھر فرمایا: دوسرا تکبیر تحریمہ کے وقت اور ایک سکتہ ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ [سورة الفاتحة: 7] کے بعد۔
حدیث نمبر: 3080
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، ثنا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَكْتَتَانِ حَفِظْتُهُمَا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَالَ فِيهِ: قَالَ سَعِيدٌ: ققُلْنَا لِقَتَادَةَ: مَا هَاتَانِ السَّكْتَتَانِ؟ فَقَالَ: إِذَا دَخَلَ فِي صَلَاتِهِ وَإِذَا فَرَغَ مِنَ الْقِرَاءَةِ ثُمَّ قَالَ بَعْدُ: وَإِذَا قَالَ: غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے دو سکتے یاد کیے ہیں۔۔۔ اس میں یہ بھی ہے کہ سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم نے قتادہ رحمہ اللہ سے پوچھا: وہ دو سکتے کیا ہیں؟ انہوں نے کہا: ایک جب نماز شروع کرتے وقت اور دوسرا جب قرأت سے فارغ ہوں۔ پھر اس کے بعد فرمایا: ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ [سورة الفاتحة: 7] کہتے وقت بھی۔
حدیث نمبر: 3081
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، ثنا أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا " نَهَضَ فِي الثَّانِيَةِ اسْتَفْتَحَ بـ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَلَمْ يَسْكُتْ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوتے تو خاموش نہیں رہتے تھے بلکہ ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ [سورة الفاتحة: 2] سے قراءت شروع فرما دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 3082
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا وَالِدِي، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ نَصْرِ بْنِ مُعَارِكٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ.
حافظ ثناء اللہ
ایک دوسری سند سے اسی جیسی روایت منقول ہے۔
حدیث نمبر: 3083
وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَسْلَمَ، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا " نَهَضَ مِنَ الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ اسْتَفْتَحَ الْقِرَاءَةَ وَلَمْ يَسْكُتْ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ فَقَالَ: حُدِّثْتُ عَنْ يَحْيَى بْنِ حَسَّانَ، وَيُونُسَ الْمُؤَدِّبِ وَغَيْرِهِمَا، قَالُوا: ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ، فَذَكَرَهُ وَفِيهِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهُ لَا سَكْتَةَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ قَبْلَ الْقِرَاءَةِ وَهُوَ حَدِيثٌ صَحِيحٌ وَيُحْتَمَلُ أَنَّهُ أَرَادَ بِهِ أَنَّهُ لَا يَسْكُتُ فِي الثَّانِيَةِ كَسُكُوتِهِ فِي الْأُولَى لِلِاسْتِفْتَاحِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
ابو زرعہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ جب دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوتے تو فوراً قراءت شروع کر دیتے، سکتہ نہیں کرتے تھے۔
اس حدیث سے واضح ہے کہ دوسری رکعت میں قراءت سے پہلے کوئی سکتہ نہیں ہے اور یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ دوسری رکعت کا سکتہ پہلی رکعت کی دعائے افتتاح کے سکتے جیسا نہ ہو۔
اس حدیث سے واضح ہے کہ دوسری رکعت میں قراءت سے پہلے کوئی سکتہ نہیں ہے اور یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ دوسری رکعت کا سکتہ پہلی رکعت کی دعائے افتتاح کے سکتے جیسا نہ ہو۔