السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: في سكتتي الإمام باب: امام کے دو سکتوں (خاموشیوں) کے بیان میں
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: قَالَ سَمُرَةُ " حَفِظْتُ سَكْتَتَيْنِ فِي الصَّلَاةِ سَكْتَةً إِذَا كَبَّرَ الْإِمَامُ حَتَّى يَقْرَأَ، وَسَكْتَةً إِذَا فَرَغَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ عِنْدَ الرُّكُوعِ قَالَ: فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ قَالَ: فَكَتَبُوا فِي ذَلِكَ إِلَى أُبَيٍّ بِالْمَدِينَةِ فَصَدَّقَ سَمُرَةَ وَقِيلَ عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ يُونُسَ وَإِذَا قَرَأَ {وَلَا الضَّالِّينَ} [الفاتحة: ٧] سَكَتَ سَكْتَةً وَلَمْ يَذْكُرِ السُّورَةَ وَقَالَ حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنِ الْحَسَنِ وَسَكْتَةً إِذَا فَرَغَ مِنَ الْقِرَاءَةِ، وَقَالَ أَشْعَثُ: عَنِ الْحَسَنِ إِذَا فَرَغَ مِنَ الْقِرَاءَةِ كُلِّهَا وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ هَذَا التَّفْسِيرُ وَقَعَ مِنْ رِوَايَةٍ، عَنِ الْحَسَنِ؛ فَلِذَلِكَ اخْتَلَفُوا وَيَدُلُّ عَلَيْهِ.حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”مجھے نماز میں دو سکتے یاد ہیں: پہلا سکتہ امام کے تکبیر کہنے کے بعد سے قراءت شروع کرنے تک اور دوسرا سکتہ جب امام سورہ فاتحہ اور دوسری سورت کی قراءت سے فارغ ہو جائے۔“
راوی فرماتے ہیں کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے اس کا انکار کیا۔ پھر انہوں نے اس مسئلے کے بارے میں خط لکھ کر مدینہ میں سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا تو انہوں نے سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ کی تصدیق کی۔
ایک قول ہیثم سے یونس کے واسطے سے منقول ہے کہ جب آپ ﷺ نے ﴿وَلَا الضَّالِّينَ﴾ [سورة الفاتحة: 7] پڑھا تو ”کچھ دیر کے لیے خاموش ہو گئے۔“ انہوں نے سورت کا ذکر نہیں کیا۔
حمید طویل، حسن کے واسطے سے بیان کرتے ہیں کہ ”ایک سکتہ آپ ﷺ اس وقت فرماتے تھے جب قراءت سے فارغ ہوتے۔“
اشعث، حسن سے نقل کرتے ہیں کہ ”جب آپ ﷺ قراءت سے فارغ ہوتے تو سکتہ کرتے۔“
یہاں پر یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ یہ تفسیر حسن سے روایت کرنے والوں نے کی ہو۔ اسی وجہ سے ان کے درمیان اختلاف ہے اور یہ دلیل ہے۔