السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الإمام يتحول عن مكانه إذا أراد أن يتطوع في المسجد باب: جب امام مسجد میں نفل پڑھنے کا ارادہ کرے تو اس کا اپنی جگہ سے ہٹ جانے کا بیان
حدیث نمبر: 3054
وَكَذَلِكَ مَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ يَعْنِي أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، ثنا فُرَاتُ بْنُ أَحْنَفَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرٍ الْهِلَالِيِّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ " لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يَتَطَوَّعَ الرَّجُلُ مَكَانَهُ " أَوْ رَآهُ فَعَلَهُ شَكَّ عَلِيٌّ وَرُوِّينَا عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ فَرَّقَ فِي ذَلِكَ بَيْنَ الْإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ فَكَرِهَهُ لِلْإِمَامِ دُونَ الْمَأْمُومِ وَإِسْنَادُهُ غَيْرُ قَوِيٍّ.حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ وہ اس بات میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے کہ آدمی اسی جگہ نفل نماز پڑھے، اگرچہ وہ کسی کو اس طرح کرتے دیکھ بھی لیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو شک ہے۔
(ب) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ہمیں روایت بیان کی گئی کہ وہ اس مسئلے میں امام اور مقتدی کے درمیان فرق کرتے تھے اور امام کے لیے اس طرح کرنا مکروہ خیال کرتے تھے جبکہ مقتدی کے لیے جواز کے قائل تھے۔ اس کی اسناد قوی نہیں ہیں۔