السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الإمام يتحول عن مكانه إذا أراد أن يتطوع في المسجد باب: جب امام مسجد میں نفل پڑھنے کا ارادہ کرے تو اس کا اپنی جگہ سے ہٹ جانے کا بیان
حدیث نمبر: 3053
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يُصَلِّي سُبْحَتَهُ فِي مَقَامِهِ الَّذِي صَلَّى فِيهِ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَكَأَنَّهُ كَانَ يَفْصِلُ بَيْنَهُمَا بِكَلَامٍ أَوِ انْحِرَافٍ أَوْ فَعَلَ مَا يَجُوزُ فِعْلُهُ.حافظ ثناء اللہ
(ا) نافع روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنی نفل نماز اسی جگہ ادا کر لیا کرتے جہاں آپ نے فرض نماز ادا کی ہوتی۔
(ب) شاید آپ ان دونوں نمازوں کے درمیان کلام کر لیتے یا رخ وغیرہ پھیر لیتے یا کسی ایسے کام کے ساتھ فاصلہ کر دیتے جو جائز ہوتا۔