حدیث نمبر: 3022
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ الرَّزَّازُ قِرَاءَةً عَلَيْهِ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الدَّقِيقِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ وَرْقَاءُ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ بِالدَّرَجَاتِ وَالنَّعِيمِ الْمُقِيمِ قَالَ: " كَيْفَ ذَلِكَ؟ " قَالُوا: صَلُّوا كَمَا صَلَّيْنَا، وَجَاهَدُوا كَمَا جَاهَدْنَا، وَأَنْفَقُوا مِنْ فُضُولِ أَمْوَالِهِمْ، وَلَيْسَ لَنَا مَالٌ، فَقَالَ: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَمْرٍ تُدْرِكُونَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، وَتَسْبِقُونَ مَنْ جَاءَ بَعْدَكُمْ وَلَا يَأْتِي أَحَدٌ بِمِثْلِ مَا جِئْتُمْ بِهِ إِلَّا مَنْ جَاءَ بِمِثْلِهِ، تُسَبِّحُونَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا وَتَحْمَدُونَ عَشْرًا وَتُكَبِّرُونَ عَشْرًا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ قَالَ الشَّيْخُ: وَرَوَاهُ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ سُمَيٍّ كَمَا.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! دولت مند لوگوں نے بلند درجات حاصل کر لیے اور ہمیشہ کا سکون لوٹ لیا۔“ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ”وہ کیسے؟“ ایک صحابی نے کہا کہ وہ ہماری طرح نماز پڑھتے ہیں اور ہماری طرح جہاد کرتے ہیں، لیکن ان کے پاس مال کی فراوانی ہے جس سے وہ اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں جب کہ ہمارے پاس مال نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسا عمل نہ بتاؤں جس کی وجہ سے تم ان لوگوں کے مرتبوں کو پہنچ جاؤ گے جو تم سے پہلے گزر گئے اور اپنے بعد والوں سے بھی سبقت لے جاؤ گے؟ پھر تمہارے مرتبے کو کوئی بھی نہ پہنچ سکے گا البتہ وہ شخص جو اس جیسا عمل لے کر آئے۔ تم ہر نماز کے بعد دس بار «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“، دس مرتبہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”سب تعریف اللہ کے لیے ہے“ اور دس بار «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہو۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3022
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه البخاري 843»