السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الترغيب في مكث المصلي في مصلاه لإطالة ذكر الله تعالى في نفسه، وكذلك الإمام إذا انحرف باب: نمازی کا اپنی نماز کی جگہ پر دل میں اللہ تعالیٰ کے طویل ذکر کے لیے ٹھہرے رہنے کی ترغیب، اور اسی طرح امام کا رخ موڑنے کے بعد ٹھہرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3021
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حَرْبٍ الطَّائِيُّ قَالَ: ثنا أَبُو جَدِّي عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ هُوَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى، " يَعْنِي الصُّبْحَ، جَلَسَ فِي مُصَلَّاهُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ سُفْيَانَ وَزَادَ فِيهِ: حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ حَسَنًا وَرَوَاهُ أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ سِمَاكٍ وَزَادَ فِيهِ: " فَإِذَا طَلَعَتْ قَامَ، وَلَمْ يَقُلْ حَسَنًا ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب صبح کی نماز پڑھتے تو اپنی جائے نماز پر ہی بیٹھے رہتے حتیٰ کہ سورج طلوع ہو جاتا۔
امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں یہ روایت ذکر کی ہے، اس میں یہ اضافہ ہے: «حَتّٰى تَطْلُعَ الشَّمْسُ حَسَنًا» ”یہاں تک کہ سورج اچھی طرح طلوع ہو جاتا۔“
ابو خیثمہ رحمہ اللہ نے سماک سے یہ روایت نقل کی ہے اور اس میں «فَإِذَا طَلَعَتْ قَامَ» ہی کہا ہے، «حَسَنًا» کی جگہ «قَامَ» کا لفظ ہے۔