السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: التوسع في الأخذ بجميع ما روينا في التشهد مسندا وموقوفا، واختيار المسند الزائد على غيره باب: تشہد کے بارے میں مروی تمام مسند اور موقوف روایات پر عمل کرنے میں وسعت، اور اس مسند روایت کو اختیار کرنے کا بیان جس میں دیگر کے مقابلے میں زیادتی ہے
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: أنبأ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَؤُهَا وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْرَأَنِيهَا فَكِدْتُ أَنْ أَعْجَلَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَمْهَلْتُهُ حَتَّى انْصَرَفَ، ثُمَّ لَبَّبْتُهُ بِرِدَائِهِ فَجِئْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَأْتَنِيهَا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْرَأْ " فَقَرَأَ الْقِرَاءَةَ الَّتِي سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَكَذَا أُنْزِلَتْ " ثُمَّ قَالَ لِي: " اقْرَأْ " فَقَرَأْتُ فَقَالَ: " هَكَذَا أُنْزِلَتْ، إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ " قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " فَإِذَا كَانَ اللهُ بِرَأْفَتِهِ بِخَلْقِهِ أَنْزَلَ كِتَابَهُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ مَعْرِفَةً مِنْهُ بِأَنَّ الْحِفْظَ قَدْ نَزَلَ لِيَجْعَلَ لَهُمْ قِرَاءَتَهُ، وَإِنِ اخْتَلَفَ لَفْظُهُمْ فِيهِ، كَانَ مَا سِوَى كِتَابِ اللهِ أَوْلَى أَنْ يَجُوزَ فِيهِ اخْتِلَافُ اللَّفْظِ مَا لَمْ يَخِلَّ مَعْنَاهُ " قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: " وَلَيْسَ لِأَحَدٍ أَنْ يَعْمِدَ أَنْ يَكُفَّ عَنْ قِرَاءَةِ حَرْفٍ مِنَ الْقُرْآنِ إِلَّا بِنِسْيَانٍ، وَهَذَا فِي التَّشَهُّدِ وَفِي جَمِيعِ الذِّكْرِ أَخَفُّ وَقَالَ مَنْ كَلَّمَ الشَّافِعِيَّ: كَيْفَ صِرْتَ إِلَى اخْتِيَارِ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي التَّشَهُّدِ دُونَ غَيْرِهِ؟ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " لَمَّا رَأَيْتُهُ وَاسِعًا وَسَمِعْتُهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ صَحِيحًا كَانَ عِنْدِي أَجْمَعَ وَأَكْثَرَ لَفْظًا مِنْ غَيْرِهِ فَأَخَذْتُ بِهِ غَيْرَ مُعَنِّفٍ لِمَنْ أَخَذَ بِغَيْرِهِ مَا ثَبَتَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الشَّيْخُ: وَالثَّابِتُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ حَدِيثُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ.(ا) عبدالرحمن بن عبدالقاری فرماتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا کہ میں نے ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کو سنا، وہ سورہ الفرقان کی تلاوت اس طرح کر رہے تھے جس طرح انہوں نے وہ پڑھی نہیں تھی۔ حالانکہ نبی ﷺ نے انہیں پڑھائی تھی، میں دورانِ نماز ہی ان پر غصہ ہونے لگا، لیکن میں نے تلاوت مکمل ہونے تک مہلت دی۔
جب وہ سلام پھیر کر فارغ ہوا تو اس کے گلے میں اپنی چادر ڈال کر رسول اللہ ﷺ کے پاس لے آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے اس کو سورہ الفرقان پڑھتے سنا اور یہ اس طرح تو نہیں پڑھ رہا تھا جس طرح آپ نے مجھے پڑھائی ہے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا: ”پڑھ“ تو انہوں نے اسی طرح پڑھی جس طرح میں نے انہیں پڑھتے ہوئے سنا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایسے ہی نازل ہوئی ہے۔“ پھر آپ نے مجھے فرمایا کہ پڑھ، میں نے پڑھی تو آپ نے فرمایا: ”ایسے ہی نازل ہوئی ہے۔“ پھر فرمایا: ”یہ قرآن سات قراءتوں میں نازل ہوا ہے۔ ان قراءتوں میں سے جو تمہیں آسان لگے وہ پڑھو۔“
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے ساتھ نرمی والا برتاؤ کر رہا ہے کہ اس نے قرآن کو سات حروف میں نازل کر دیا تاکہ حفظ میں سہولت ہو اور قراءت صحیح ہے اگرچہ الفاظ مختلف ہوں تو جب قرآن میں ایسا ممکن ہے تو باقی چیزوں میں اختلافِ لفظی پایا جانا بدرجہ اولیٰ ممکن ہے۔
(ج) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کسی کے لیے جائز نہیں کہ جان بوجھ کر قرآن کی قراءت کو روکے۔ یہ تو تشہد میں ہے اور باقی اذکار میں زیادہ گنجائش نہیں ہے۔
(د) کسی نے امام شافعی رحمہ اللہ سے کہا کہ آپ نے تشہد میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث کو پسند کر لیا اور دیگر کو چھوڑ دیا کیوں؟ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جب میں نے اس میں وسعت دیکھی اور وہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت سنی وہ مجھے زیادہ جامع نظر آئی اور دیگر کے الفاظ سے اس کے الفاظ بھی زیادہ ہیں تو میں نے اس روایت کو لے لیا۔
(ہ) شیخ بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی احادیث ثابت ہیں۔