السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: التوسع في الأخذ بجميع ما روينا في التشهد مسندا وموقوفا، واختيار المسند الزائد على غيره باب: تشہد کے بارے میں مروی تمام مسند اور موقوف روایات پر عمل کرنے میں وسعت، اور اس مسند روایت کو اختیار کرنے کا بیان جس میں دیگر کے مقابلے میں زیادتی ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ فَذَكَرَ حَدِيثَ عُمَرَ فِي التَّشَهُّدِ كَمَا مَضَى، ثُمَّ قَالَ: " فَكَانَ هَذَا الَّذِي عَلَّمَنَا مَنْ سَبَقَنَا بِالْعِلْمِ مِنْ فُقَهَائِنَا صِغَارًا، ثُمَّ سَمِعْنَاهُ بِإِسْنَادِهِ وَسَمِعْنَا مَا خَالَفَهُ فَكَانَ الَّذِي نَذْهَبُ إِلَيْهِ أَنَّ عُمَرَ لَا يُعَلِّمُ النَّاسَ عَلَى الْمِنْبَرِ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا عَلَى مَا عَلَّمَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَيْنَا مِنْ حَدِيثِ أَصْحَابِنَا حَدِيثٌ نُثْبِتُهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صِرْنَا إِلَيْهِ وَكَانَ أَوْلَى بِنَا فَذَكَرَ حَدِيثَ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: يَعْنِي بَعْضَ مَنْ كَلَّمَ الشَّافِعِيَّ فِي ذَلِكَ فَإِنَّا نَرَى الرِّوَايَةَ قَدِ اخْتَلَفَتْ فِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَوَى ابْنُ مَسْعُودٍ خِلَافَ هَذَا، وَرَوَى أَبُو مُوسَى، وَجَابِرٌ وَقَدْ يُخَالِفُ بَعْضُهَا بَعْضًا فِي شَيْءٍ مِنْ لَفْظِهِ، ثُمَّ عَلَّمَهُ عُمَرُ خِلَافَ هَذَا كُلِّهِ فِي بَعْضِ لَفْظِهِ، وَكَذَلِكَ تَشَهُّدُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَابْنِ عُمَرَ، وَقَدْ يَزِيدُ بَعْضُهُمُ الشَّيْءَ عَلَى بَعْضٍ " ⦗٢٠٨⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ: " فَقُلْتُ الْأَمْرُ فِي هَذَا بَيِّنٌ، كُلُّ كَلَامٍ أُرِيدَ بِهِ تَعْظِيمُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ فَعَلَّمَهُمُوهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَحْفَظُهُ أَحَدُهُمْ عَلَى لَفْظِهِ، وَيَحْفَظُهُ الْآخَرُ عَلَى لَفْظٍ يُخَالِفُهُ، لَا يَخْتَلِفَانِ فِي مَعْنًى فَلَعَلَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجَازَ لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ كَمَا حَفِظَ إِذَا كَانَ لَا مَعْنَى فِيهِ يُحِيلُ شَيْئًا عَنْ حُكْمِهِ، وَاسْتُدِلَّ عَلَى ذَلِكَ بِحَدِيثِ حُرُوفِ الْقُرْآنِ ".(ا) امام مالک رحمہ اللہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی تشہد والی حدیث کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ ہے وہ تشہد جو ہمیں فقہاء سابقین نے سکھایا۔ ہم نے یہ تشہد سند کے ساتھ سنا ہے اور اس کے مخالف بھی سنا ہے۔ ہماری رائے یہ ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کے درمیان منبر رسول ﷺ پر لوگوں کو وہی سکھاتے ہوں گے جو نبی ﷺ نے انھیں سکھایا۔ جب ہمارے پاس اصحابِ حدیث کی طرف سے یہ حدیث پہنچی تو ہم اس کو نبی ﷺ تک ثابت کریں گے اور اس پر عمل کریں گے اور یہ ہمارے لیے زیادہ بہتر ہے۔ پھر انھوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث ذکر کی اور فرمایا: شوافع نے اس میں کلام کیا ہے۔ دراصل اس کے نقل کرنے میں نبی ﷺ سے ہی اختلاف کیا گیا ہے، ابن مسعود رضی اللہ عنہ، ابوموسیٰ اور جابر رضی اللہ عنہما کی روایات میں آپس میں کچھ اختلاف ہے۔
پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے خلاف سکھایا۔ یہ سب اصل میں لفظی اختلاف ہے، اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کا تشہد ہے، یعنی انھوں نے ایک دوسرے پر اضافہ کیا ہے۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہر وہ کلام جس سے عظمتِ الٰہی مراد لی جائے وہ رسول اللہ ﷺ نے انھیں سکھائی تو ان میں سے کسی نے ایک لفظ کے ساتھ یاد کرلی اور کسی نے دوسرے لفظ سے یاد کرلی۔ لفظ مختلف ہیں مگر معنی ایک ہی ہے۔
شاید رسول اللہ ﷺ نے ہر ایک کو اجازت دی ہو کہ جس نے جس طرح یاد کیا ہو اس کے لیے اسی طرح جائز ہے جبکہ معنی نہ بدلتا ہو اور اس کا حکم بدل نہ جائے اور انھوں نے اس پر حروف القرآن والی حدیث سے استدلال کیا ہے۔