کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: تشہد کے بارے میں مروی تمام مسند اور موقوف روایات پر عمل کرنے میں وسعت، اور اس مسند روایت کو اختیار کرنے کا بیان جس میں دیگر کے مقابلے میں زیادتی ہے
حدیث نمبر: 2844
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ فَذَكَرَ حَدِيثَ عُمَرَ فِي التَّشَهُّدِ كَمَا مَضَى، ثُمَّ قَالَ: " فَكَانَ هَذَا الَّذِي عَلَّمَنَا مَنْ سَبَقَنَا بِالْعِلْمِ مِنْ فُقَهَائِنَا صِغَارًا، ثُمَّ سَمِعْنَاهُ بِإِسْنَادِهِ وَسَمِعْنَا مَا خَالَفَهُ فَكَانَ الَّذِي نَذْهَبُ إِلَيْهِ أَنَّ عُمَرَ لَا يُعَلِّمُ النَّاسَ عَلَى الْمِنْبَرِ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا عَلَى مَا عَلَّمَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَيْنَا مِنْ حَدِيثِ أَصْحَابِنَا حَدِيثٌ نُثْبِتُهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صِرْنَا إِلَيْهِ وَكَانَ أَوْلَى بِنَا فَذَكَرَ حَدِيثَ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: يَعْنِي بَعْضَ مَنْ كَلَّمَ الشَّافِعِيَّ فِي ذَلِكَ فَإِنَّا نَرَى الرِّوَايَةَ قَدِ اخْتَلَفَتْ فِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَوَى ابْنُ مَسْعُودٍ خِلَافَ هَذَا، وَرَوَى أَبُو مُوسَى، وَجَابِرٌ وَقَدْ يُخَالِفُ بَعْضُهَا بَعْضًا فِي شَيْءٍ مِنْ لَفْظِهِ، ثُمَّ عَلَّمَهُ عُمَرُ خِلَافَ هَذَا كُلِّهِ فِي بَعْضِ لَفْظِهِ، وَكَذَلِكَ تَشَهُّدُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَابْنِ عُمَرَ، وَقَدْ يَزِيدُ بَعْضُهُمُ الشَّيْءَ عَلَى بَعْضٍ " ⦗٢٠٨⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ: " فَقُلْتُ الْأَمْرُ فِي هَذَا بَيِّنٌ، كُلُّ كَلَامٍ أُرِيدَ بِهِ تَعْظِيمُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ فَعَلَّمَهُمُوهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَحْفَظُهُ أَحَدُهُمْ عَلَى لَفْظِهِ، وَيَحْفَظُهُ الْآخَرُ عَلَى لَفْظٍ يُخَالِفُهُ، لَا يَخْتَلِفَانِ فِي مَعْنًى فَلَعَلَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجَازَ لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ كَمَا حَفِظَ إِذَا كَانَ لَا مَعْنَى فِيهِ يُحِيلُ شَيْئًا عَنْ حُكْمِهِ، وَاسْتُدِلَّ عَلَى ذَلِكَ بِحَدِيثِ حُرُوفِ الْقُرْآنِ ".
حافظ ثناء اللہ
(ا) امام مالک رحمہ اللہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی تشہد والی حدیث کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ ہے وہ تشہد جو ہمیں فقہاء سابقین نے سکھایا۔ ہم نے یہ تشہد سند کے ساتھ سنا ہے اور اس کے مخالف بھی سنا ہے۔ ہماری رائے یہ ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کے درمیان منبر رسول ﷺ پر لوگوں کو وہی سکھاتے ہوں گے جو نبی ﷺ نے انھیں سکھایا۔ جب ہمارے پاس اصحابِ حدیث کی طرف سے یہ حدیث پہنچی تو ہم اس کو نبی ﷺ تک ثابت کریں گے اور اس پر عمل کریں گے اور یہ ہمارے لیے زیادہ بہتر ہے۔ پھر انھوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث ذکر کی اور فرمایا: شوافع نے اس میں کلام کیا ہے۔ دراصل اس کے نقل کرنے میں نبی ﷺ سے ہی اختلاف کیا گیا ہے، ابن مسعود رضی اللہ عنہ، ابوموسیٰ اور جابر رضی اللہ عنہما کی روایات میں آپس میں کچھ اختلاف ہے۔
پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے خلاف سکھایا۔ یہ سب اصل میں لفظی اختلاف ہے، اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کا تشہد ہے، یعنی انھوں نے ایک دوسرے پر اضافہ کیا ہے۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہر وہ کلام جس سے عظمتِ الٰہی مراد لی جائے وہ رسول اللہ ﷺ نے انھیں سکھائی تو ان میں سے کسی نے ایک لفظ کے ساتھ یاد کرلی اور کسی نے دوسرے لفظ سے یاد کرلی۔ لفظ مختلف ہیں مگر معنی ایک ہی ہے۔
شاید رسول اللہ ﷺ نے ہر ایک کو اجازت دی ہو کہ جس نے جس طرح یاد کیا ہو اس کے لیے اسی طرح جائز ہے جبکہ معنی نہ بدلتا ہو اور اس کا حکم بدل نہ جائے اور انھوں نے اس پر حروف القرآن والی حدیث سے استدلال کیا ہے۔
پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے خلاف سکھایا۔ یہ سب اصل میں لفظی اختلاف ہے، اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کا تشہد ہے، یعنی انھوں نے ایک دوسرے پر اضافہ کیا ہے۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہر وہ کلام جس سے عظمتِ الٰہی مراد لی جائے وہ رسول اللہ ﷺ نے انھیں سکھائی تو ان میں سے کسی نے ایک لفظ کے ساتھ یاد کرلی اور کسی نے دوسرے لفظ سے یاد کرلی۔ لفظ مختلف ہیں مگر معنی ایک ہی ہے۔
شاید رسول اللہ ﷺ نے ہر ایک کو اجازت دی ہو کہ جس نے جس طرح یاد کیا ہو اس کے لیے اسی طرح جائز ہے جبکہ معنی نہ بدلتا ہو اور اس کا حکم بدل نہ جائے اور انھوں نے اس پر حروف القرآن والی حدیث سے استدلال کیا ہے۔
حدیث نمبر: 2845
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: أنبأ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَؤُهَا وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْرَأَنِيهَا فَكِدْتُ أَنْ أَعْجَلَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَمْهَلْتُهُ حَتَّى انْصَرَفَ، ثُمَّ لَبَّبْتُهُ بِرِدَائِهِ فَجِئْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَأْتَنِيهَا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْرَأْ " فَقَرَأَ الْقِرَاءَةَ الَّتِي سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَكَذَا أُنْزِلَتْ " ثُمَّ قَالَ لِي: " اقْرَأْ " فَقَرَأْتُ فَقَالَ: " هَكَذَا أُنْزِلَتْ، إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ " قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " فَإِذَا كَانَ اللهُ بِرَأْفَتِهِ بِخَلْقِهِ أَنْزَلَ كِتَابَهُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ مَعْرِفَةً مِنْهُ بِأَنَّ الْحِفْظَ قَدْ نَزَلَ لِيَجْعَلَ لَهُمْ قِرَاءَتَهُ، وَإِنِ اخْتَلَفَ لَفْظُهُمْ فِيهِ، كَانَ مَا سِوَى كِتَابِ اللهِ أَوْلَى أَنْ يَجُوزَ فِيهِ اخْتِلَافُ اللَّفْظِ مَا لَمْ يَخِلَّ مَعْنَاهُ " قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: " وَلَيْسَ لِأَحَدٍ أَنْ يَعْمِدَ أَنْ يَكُفَّ عَنْ قِرَاءَةِ حَرْفٍ مِنَ الْقُرْآنِ إِلَّا بِنِسْيَانٍ، وَهَذَا فِي التَّشَهُّدِ وَفِي جَمِيعِ الذِّكْرِ أَخَفُّ وَقَالَ مَنْ كَلَّمَ الشَّافِعِيَّ: كَيْفَ صِرْتَ إِلَى اخْتِيَارِ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي التَّشَهُّدِ دُونَ غَيْرِهِ؟ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " لَمَّا رَأَيْتُهُ وَاسِعًا وَسَمِعْتُهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ صَحِيحًا كَانَ عِنْدِي أَجْمَعَ وَأَكْثَرَ لَفْظًا مِنْ غَيْرِهِ فَأَخَذْتُ بِهِ غَيْرَ مُعَنِّفٍ لِمَنْ أَخَذَ بِغَيْرِهِ مَا ثَبَتَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الشَّيْخُ: وَالثَّابِتُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ حَدِيثُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) عبدالرحمن بن عبدالقاری فرماتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا کہ میں نے ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کو سنا، وہ سورہ الفرقان کی تلاوت اس طرح کر رہے تھے جس طرح انہوں نے وہ پڑھی نہیں تھی۔ حالانکہ نبی ﷺ نے انہیں پڑھائی تھی، میں دورانِ نماز ہی ان پر غصہ ہونے لگا، لیکن میں نے تلاوت مکمل ہونے تک مہلت دی۔
جب وہ سلام پھیر کر فارغ ہوا تو اس کے گلے میں اپنی چادر ڈال کر رسول اللہ ﷺ کے پاس لے آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے اس کو سورہ الفرقان پڑھتے سنا اور یہ اس طرح تو نہیں پڑھ رہا تھا جس طرح آپ نے مجھے پڑھائی ہے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا: ”پڑھ“ تو انہوں نے اسی طرح پڑھی جس طرح میں نے انہیں پڑھتے ہوئے سنا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایسے ہی نازل ہوئی ہے۔“ پھر آپ نے مجھے فرمایا کہ پڑھ، میں نے پڑھی تو آپ نے فرمایا: ”ایسے ہی نازل ہوئی ہے۔“ پھر فرمایا: ”یہ قرآن سات قراءتوں میں نازل ہوا ہے۔ ان قراءتوں میں سے جو تمہیں آسان لگے وہ پڑھو۔“
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے ساتھ نرمی والا برتاؤ کر رہا ہے کہ اس نے قرآن کو سات حروف میں نازل کر دیا تاکہ حفظ میں سہولت ہو اور قراءت صحیح ہے اگرچہ الفاظ مختلف ہوں تو جب قرآن میں ایسا ممکن ہے تو باقی چیزوں میں اختلافِ لفظی پایا جانا بدرجہ اولیٰ ممکن ہے۔
(ج) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کسی کے لیے جائز نہیں کہ جان بوجھ کر قرآن کی قراءت کو روکے۔ یہ تو تشہد میں ہے اور باقی اذکار میں زیادہ گنجائش نہیں ہے۔
(د) کسی نے امام شافعی رحمہ اللہ سے کہا کہ آپ نے تشہد میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث کو پسند کر لیا اور دیگر کو چھوڑ دیا کیوں؟ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جب میں نے اس میں وسعت دیکھی اور وہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت سنی وہ مجھے زیادہ جامع نظر آئی اور دیگر کے الفاظ سے اس کے الفاظ بھی زیادہ ہیں تو میں نے اس روایت کو لے لیا۔
(ہ) شیخ بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی احادیث ثابت ہیں۔
جب وہ سلام پھیر کر فارغ ہوا تو اس کے گلے میں اپنی چادر ڈال کر رسول اللہ ﷺ کے پاس لے آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے اس کو سورہ الفرقان پڑھتے سنا اور یہ اس طرح تو نہیں پڑھ رہا تھا جس طرح آپ نے مجھے پڑھائی ہے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا: ”پڑھ“ تو انہوں نے اسی طرح پڑھی جس طرح میں نے انہیں پڑھتے ہوئے سنا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایسے ہی نازل ہوئی ہے۔“ پھر آپ نے مجھے فرمایا کہ پڑھ، میں نے پڑھی تو آپ نے فرمایا: ”ایسے ہی نازل ہوئی ہے۔“ پھر فرمایا: ”یہ قرآن سات قراءتوں میں نازل ہوا ہے۔ ان قراءتوں میں سے جو تمہیں آسان لگے وہ پڑھو۔“
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے ساتھ نرمی والا برتاؤ کر رہا ہے کہ اس نے قرآن کو سات حروف میں نازل کر دیا تاکہ حفظ میں سہولت ہو اور قراءت صحیح ہے اگرچہ الفاظ مختلف ہوں تو جب قرآن میں ایسا ممکن ہے تو باقی چیزوں میں اختلافِ لفظی پایا جانا بدرجہ اولیٰ ممکن ہے۔
(ج) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کسی کے لیے جائز نہیں کہ جان بوجھ کر قرآن کی قراءت کو روکے۔ یہ تو تشہد میں ہے اور باقی اذکار میں زیادہ گنجائش نہیں ہے۔
(د) کسی نے امام شافعی رحمہ اللہ سے کہا کہ آپ نے تشہد میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث کو پسند کر لیا اور دیگر کو چھوڑ دیا کیوں؟ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جب میں نے اس میں وسعت دیکھی اور وہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت سنی وہ مجھے زیادہ جامع نظر آئی اور دیگر کے الفاظ سے اس کے الفاظ بھی زیادہ ہیں تو میں نے اس روایت کو لے لیا۔
(ہ) شیخ بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی احادیث ثابت ہیں۔