السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: القعود على العقبين بين السجدتين باب: دونوں سجدوں کے درمیان ایڑیوں پر بیٹھنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ شَيْبَانَ الْبَغْدَادِيُّ الْهَرَوِيُّ بِهَا أنبأ مُعَاذُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى بْنِ صَفْوَانَ الْكُوفِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ، وَابْنَ عَبَّاسٍ وَهُمَا يُقْعِيَانِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ عَلَى أَطْرَافِ أَصَابِعِهِمَا " قَالَ إِبْرَاهِيمُ: فَسَأَلْتُ عَطَاءً عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: أَيَّ ذَلِكَ فَعَلْتَ أَجْزَأَكَ، إِنْ شِئْتَ عَلَى أَطْرَافِ أَصَابِعِكَ، وَإِنْ شِئْتَ عَلَى عَجُزِكَ، فَهَذَا الْإِقْعَاءُ الْمُرَخَّصُ فِيهِ، أَوِ الْمَسْنُونُ عَلَى مَا رُوِّينَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ عُمَرَ وَهُوَ أَنْ يَضَعَ أَطْرَافَ أَصَابِعِ رِجْلَيْهِ عَلَى الْأَرْضِ وَيَضَعَ إِلْيَتَيْهِ عَلَى عَقِبَيْهِ وَيَضَعَ رُكْبَتَيْهِ بِالْأَرْضِ.(ا) طاوس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کو دیکھا وہ دونوں نماز میں سجدوں کے درمیان جلسہ میں اپنے پاؤں کی انگلیوں پر بیٹھتے تھے۔
(ب) ابراہیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے عطا رحمہ اللہ سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ان میں سے جو طریقہ بھی اختیار کر لو تمہیں کفایت کر جائے گا۔ اگر چاہو تو پاؤں کی انگلیوں کے پوروں پر بیٹھ جاؤ اور اگر چاہو تو اپنی مقعد پر بیٹھ جاؤ۔
(ج) یہ جائز یا مسنون اقعاء (ایڑیوں پر بیٹھنا) ہے جس کے بارے میں ہم ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایات ذکر کر چکے ہیں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی اپنے پاؤں کی انگلیوں کے سرے زمین پر رکھے اور اپنی سرین کو اپنی ایڑیوں پر رکھے اور گھٹنے زمین پر ہوں۔