حدیث نمبر: 2643
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا مِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا وَهْبُ بْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ قَالَ مِقْدَامٌ: وَثنا أَبُو الْأَسْوَدِ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، وَابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ قَالَ: كُنْتُ فِي مَجْلِسٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَذَاكَرُوا صَلَاتَهُ، فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ: أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ مِنْ هِمَّتِي " رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ كَبَّرَ، ثُمَّ قَرَأَ فَإِذَا رَكَعَ كَبَّرَ وَوَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَفَرَّجَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، ثُمَّ هَصَرَ ظَهْرَهُ غَيْرَ مُقَنِّعٍ رَأْسَهُ، وَلَا صَافِحًا بِخَدِّهِ، فَإِذَا رَفَعَ قَائِمًا قَامَ حَتَّى يَعُودَ كُلُّ عُضْوٍ إِلَى مَكَانِهِ، فَإِذَا سَجَدَ أَمْكَنَ الْأَرْضَ بِكَفَّيْهِ، وَرُكْبَتَيْهِ وَصُدُورِ قَدَمَيْهِ، ثُمَّ اطْمَأَنَّ سَاجِدًا، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ اطْمَأَنَّ جَالِسًا، فَإِذَا قَعَدَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَعَدَ عَلَى بَطْنِ قَدَمِهِ الْيُسْرَى وَنَصَبَ الْيُمْنَى، فَإِذَا كَانَتِ الرَّابِعَةُ أَفْضَى بِوَرِكِهِ الْيُسْرَى إِلَى الْأَرْضِ وَأَخْرَجَ قَدَمَيْهِ مِنْ نَاحِيَةٍ وَاحِدَةٍ " قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَفِي رِوَايَةِ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ فَانْتَصَبَ عَلَى كَفَّيْهِ وَرُكْبَتَيْهِ وَصُدُورِ قَدَمَيْهِ فِي السُّجُودِ.
حافظ ثناء اللہ

محمد بن عمرو بن عطاء سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کی مجلس میں تھا۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی نماز کا ذکر شروع کر دیا۔ ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”میں تم سب سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں جانتا ہوں۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، جب آپ ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے، پھر قراءت کرتے۔ جب رکوع کرتے تب بھی تکبیر کہتے اور دورانِ رکوع اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھتے تھے اور اپنی انگلیاں کھلی ہوئی رکھتے تھے اور اپنی کمر کو نہ زیادہ جھکاتے نہ اوپر اٹھاتے بلکہ برابر رکھتے۔ جب رکوع سے اٹھتے تو سیدھے کھڑے ہو جاتے، یہاں تک کہ ہر عضو اپنی اپنی جگہ واپس لوٹ آتا، پھر جب سجدہ کرتے تو زمین پر اپنی ہتھیلیوں، گھٹنوں اور پاؤں کے سروں کو مضبوطی سے رکھتے اور اطمینان سے سجدہ کرتے، جب سر اٹھاتے تو سیدھے ہو کر اطمینان سے بیٹھ جاتے، دو رکعتوں کے بعد قعدہ کرتے، اس کا طریقہ یہ ہوتا کہ دایاں پاؤں کھڑا رکھتے اور بائیں پاؤں کو بچھا کر اس پر بیٹھ جاتے۔ جب چوتھی رکعت ہوتی تو بائیں پہلو پر بیٹھ جاتے اور دونوں پاؤں کو ایک طرف نکال لیتے۔“
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عباس بن سہل کی ابوحمید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اس میں ہے کہ ”آپ ﷺ سجدے میں اپنی ہتھیلیوں، گھٹنوں اور پاؤں کے سروں پر ٹیک لگاتے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2643
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه عبدالرزاق 3046»