کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: دونوں ہتھیلیوں، دونوں گھٹنوں، دونوں پاؤں اور پیشانی پر سجدہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 2640
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَعَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْإِمَامُ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ رَجَاءٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ قَالَا: ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " أُمِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ، وَنُهِيَ أَنْ يَكُفَّ شَعْرَهُ وَثِيَابَهُ: الْكَفَّيْنِ وَالرُّكْبَتَيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ وَالْجَبْهَةِ " لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي الرَّبِيعِ، وَفِي حَدِيثِ الْعَبَّاسِ " أُمِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةٍ، وَنُهِيَ أَنْ يَكُفَّ شَعْرًا وَلَا ثَوْبًا " أَوْ قَالَ: " ثِيَابَهُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي النُّعْمَانِ عَارِمِ بْنِ الْفَضْلِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَأَبِي الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيِّ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ قَبِيصَةَ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، بِمَعْنَى رِوَايَةِ أَبِي الرَّبِيعِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کو سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا اور اپنے بالوں اور کپڑوں کو سمیٹنے سے منع کیا گیا۔ جن سات ہڈیوں پر سجدہ کا حکم دیا گیا یہ ہیں: دو ہاتھ، دو گھٹنے، دونوں پاؤں اور پیشانی۔
ابو ربیع کی حدیث کے الفاظ ہیں اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ کو سات (ہڈیوں/ اعضاء) پر سجدہ کا حکم دیا گیا اور کپڑوں اور بالوں کو سمیٹنے سے منع کیا گیا، («ثَوْبًا» یا «ثِيَابَهُ» کے الفاظ ہیں)۔
ابو ربیع کی حدیث کے الفاظ ہیں اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ کو سات (ہڈیوں/ اعضاء) پر سجدہ کا حکم دیا گیا اور کپڑوں اور بالوں کو سمیٹنے سے منع کیا گیا، («ثَوْبًا» یا «ثِيَابَهُ» کے الفاظ ہیں)۔
حدیث نمبر: 2641
حَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ الزَّاهِدُ إِمْلَاءً، وَأَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ قِرَاءَةً قَالَا: أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، ثنا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا سَجَدَ الْعَبْدُ سَجَدَ مَعَهُ سَبْعَةُ آرَابٍ: وَجْهُهُ وَكَفَّاهُ وَرُكْبَتَاهُ وَقَدَمَاهُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب کوئی شخص سجدہ کرتا ہے تو اس کے ساتھ سات اعضا سجدہ کرتے ہیں: اس کا چہرہ (پیشانی)، اس کی ہتھیلیاں، اس کے گھٹنے اور دونوں پاؤں۔“
حدیث نمبر: 2642
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ هِلَالُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ الْحَفَّارُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ أَشْكَابَ، ثنا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ، حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَيَّاشٍ أَوْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ أَبُوهُ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي الْمَجْلِسِ أَبُو هُرَيْرَةَ، وَأَبُو أُسَيْدٍ وَأَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ مِنَ الْأَنْصَارِ أَنَّهُمْ تَذَاكَرُوا الصَّلَاةَ فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: كَيْفَ؟ قَالَ: اتَّبَعْتُ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالُوا فَأَرِنَا قَالَ: فَقَامَ يُصَلِّي وَهُمْ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ، فَبَدَأَ " فَكَبَّرَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ نَحْوَ الْمَنْكِبَيْنِ، ثُمَّ كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ أَيْضًا حَتَّى أَمْكَنَ يَدَيْهِ مِنْ رُكْبَتَيْهِ غَيْرَ مُقَنَّعٍ رَأْسَهُ وَلَا مُصَوِّبِهِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ اللهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ فَرَفَعَ يَدَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: اللهُ أَكْبَرُ فَسَجَدَ فَانْتَصَبَ عَلَى كَفَّيْهِ وَرُكْبَتَيْهِ وَصُدُورِ قَدَمَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ، ثُمَّ كَبَّرَ فَجَلَسَ فَتَوَرَّكَ إِحْدَى قَدَمَيْهِ وَنَصَبَ قَدَمَهُ الْأُخْرَى، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ، ثُمَّ كَبَّرَ يَعْنِي فَقَامَ وَلَمْ يَتَوَرَّكْ، ثُمَّ عَادَ فَرَكَعَ الرَّكْعَةَ الْأُخْرَى كَذَلِكَ، ثُمَّ جَلَسَ بَعْدَ الرَّكْعَتَيْنِ حَتَّى إِذَا هُوَ أَرَادَ أَنْ يَنْهَضَ لِلْقِيَامِ قَامَ بِتَكْبِيرٍ، ثُمَّ رَكَعَ الرَّكْعَتَيْنِ الْأُخْرَيَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ، وَسَلَّمَ عَنْ شِمَالِهِ أَيْضًا السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ " قَالَ: وَحَدَّثَنِي عِيسَى أَنَّ مِمَّا حَدَّثَهُ أَيْضًا فِي الْجُلُوسِ فِي التَّشَهُّدِ أَنْ يَضَعَ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى وَيَضَعَ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ يُشِيرَ بِالدُّعَاءِ بِإِصْبَعٍ وَاحِدَةٍ، هَكَذَا رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ أَبِي بَدْرٍ وَرَوَاهُ بَعْضُهُمْ، عَنْ أَبِي بَدْرٍ، فَقَالَ: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ السَّاعِدِيِّ وَرَوَى عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ ⦗١٤٧⦘ عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَى، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ مُحَمَّدًا فِي إِسْنَادِهِ، وَالصَّحِيحُ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ قَدْ شَهِدَهُ مِنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
عباس بن سہل ساعدی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ ایک مجلس میں تھے، وہاں ان کے والد بھی تشریف فرما تھے جنہیں صحابیٔ رسول ہونے کا شرف حاصل ہے [رضی اللہ عنہ]۔ اس مجلس میں سیدنا ابوہریرہ، سیدنا ابو اسید اور سیدنا ابو حمید ساعدی انصاری رضی اللہ عنہم بھی موجود تھے۔ انہوں نے نماز کے بارے میں مذاکرہ کیا تو سیدنا ابو حمید رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”میں رسول اللہ ﷺ کی نماز کو تم سب سے زیادہ جاننے والا ہوں۔“ انہوں نے کہا: ”وہ کیسے؟“ سیدنا ابو حمید رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”میں نے یہ رسول اللہ ﷺ سے سیکھی ہے۔“
وہ کہنے لگے: ”تو ہمیں پڑھ کر دکھاؤ!“ چنانچہ سیدنا ابو حمید رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور لوگ ان کی طرف دیکھنے لگے۔ انہوں نے نماز شروع کر دی۔ تکبیر کہی تو اپنے ہاتھ کندھوں تک اٹھائے، پھر رکوع کے لیے تکبیر کہی تو اسی طرح دونوں ہاتھ اٹھائے (رفع یدین کیا)۔ پھر اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں پر جما لیا۔ آپ ﷺ کا سر نہ زیادہ نیچے تھا اور نہ ہی زیادہ اوپر، بلکہ آپ ﷺ کی کمر برابر تھی۔ پھر سیدنا ابو حمید رضی اللہ عنہ نے سر اٹھاتے ہوئے کہا: «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی“، «اللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» ”اے اللہ! اے ہمارے رب! تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں“، پھر اپنے ہاتھوں کو اٹھایا (رفع یدین کیا)، پھر اللہ اکبر کہا اور سجدہ کیا اپنی ہتھیلیوں، گھٹنوں اور پاؤں کے سامنے والے حصے جما کر رکھے اور آپ ﷺ سجدے کی حالت میں تھے، پھر تکبیر کہہ کر بیٹھ گئے۔ پھر ایک بائیں پاؤں کو بچھایا اور دائیں پاؤں کو کھڑا کیا، پھر تکبیر کہی اور دوبارہ سجدہ کیا۔ پھر تکبیر کہہ کر سیدھے کھڑے ہو گئے اور رکے نہیں۔ پھر اسی طرح دوسری رکعت مکمل کی۔ پھر دو رکعتوں کے بعد بیٹھے۔ جب انہوں نے قیام کے لیے کھڑے ہونے کا ارادہ کیا تو تکبیر کہتے ہوئے کھڑے ہوئے، پھر دوسری دو رکعتیں ادا کیں، پھر دائیں اور بائیں طرف سلام پھیرتے ہوئے «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ» ”تم پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت ہو“ کہتے۔
ایک دوسری روایت میں تشہد میں بیٹھنے کا بھی ذکر ہے کہ آپ ﷺ نے بائیں ہاتھ کو بائیں ران پر اور دائیں ہاتھ کو دائیں ران پر رکھا، پھر دعا کے ساتھ (شہادت والی) انگلی سے اشارہ کیا۔
وہ کہنے لگے: ”تو ہمیں پڑھ کر دکھاؤ!“ چنانچہ سیدنا ابو حمید رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور لوگ ان کی طرف دیکھنے لگے۔ انہوں نے نماز شروع کر دی۔ تکبیر کہی تو اپنے ہاتھ کندھوں تک اٹھائے، پھر رکوع کے لیے تکبیر کہی تو اسی طرح دونوں ہاتھ اٹھائے (رفع یدین کیا)۔ پھر اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں پر جما لیا۔ آپ ﷺ کا سر نہ زیادہ نیچے تھا اور نہ ہی زیادہ اوپر، بلکہ آپ ﷺ کی کمر برابر تھی۔ پھر سیدنا ابو حمید رضی اللہ عنہ نے سر اٹھاتے ہوئے کہا: «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی“، «اللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» ”اے اللہ! اے ہمارے رب! تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں“، پھر اپنے ہاتھوں کو اٹھایا (رفع یدین کیا)، پھر اللہ اکبر کہا اور سجدہ کیا اپنی ہتھیلیوں، گھٹنوں اور پاؤں کے سامنے والے حصے جما کر رکھے اور آپ ﷺ سجدے کی حالت میں تھے، پھر تکبیر کہہ کر بیٹھ گئے۔ پھر ایک بائیں پاؤں کو بچھایا اور دائیں پاؤں کو کھڑا کیا، پھر تکبیر کہی اور دوبارہ سجدہ کیا۔ پھر تکبیر کہہ کر سیدھے کھڑے ہو گئے اور رکے نہیں۔ پھر اسی طرح دوسری رکعت مکمل کی۔ پھر دو رکعتوں کے بعد بیٹھے۔ جب انہوں نے قیام کے لیے کھڑے ہونے کا ارادہ کیا تو تکبیر کہتے ہوئے کھڑے ہوئے، پھر دوسری دو رکعتیں ادا کیں، پھر دائیں اور بائیں طرف سلام پھیرتے ہوئے «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ» ”تم پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت ہو“ کہتے۔
ایک دوسری روایت میں تشہد میں بیٹھنے کا بھی ذکر ہے کہ آپ ﷺ نے بائیں ہاتھ کو بائیں ران پر اور دائیں ہاتھ کو دائیں ران پر رکھا، پھر دعا کے ساتھ (شہادت والی) انگلی سے اشارہ کیا۔
حدیث نمبر: 2643
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا مِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا وَهْبُ بْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ قَالَ مِقْدَامٌ: وَثنا أَبُو الْأَسْوَدِ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، وَابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ قَالَ: كُنْتُ فِي مَجْلِسٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَذَاكَرُوا صَلَاتَهُ، فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ: أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ مِنْ هِمَّتِي " رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ كَبَّرَ، ثُمَّ قَرَأَ فَإِذَا رَكَعَ كَبَّرَ وَوَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَفَرَّجَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، ثُمَّ هَصَرَ ظَهْرَهُ غَيْرَ مُقَنِّعٍ رَأْسَهُ، وَلَا صَافِحًا بِخَدِّهِ، فَإِذَا رَفَعَ قَائِمًا قَامَ حَتَّى يَعُودَ كُلُّ عُضْوٍ إِلَى مَكَانِهِ، فَإِذَا سَجَدَ أَمْكَنَ الْأَرْضَ بِكَفَّيْهِ، وَرُكْبَتَيْهِ وَصُدُورِ قَدَمَيْهِ، ثُمَّ اطْمَأَنَّ سَاجِدًا، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ اطْمَأَنَّ جَالِسًا، فَإِذَا قَعَدَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَعَدَ عَلَى بَطْنِ قَدَمِهِ الْيُسْرَى وَنَصَبَ الْيُمْنَى، فَإِذَا كَانَتِ الرَّابِعَةُ أَفْضَى بِوَرِكِهِ الْيُسْرَى إِلَى الْأَرْضِ وَأَخْرَجَ قَدَمَيْهِ مِنْ نَاحِيَةٍ وَاحِدَةٍ " قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَفِي رِوَايَةِ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ فَانْتَصَبَ عَلَى كَفَّيْهِ وَرُكْبَتَيْهِ وَصُدُورِ قَدَمَيْهِ فِي السُّجُودِ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن عمرو بن عطاء سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کی مجلس میں تھا۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی نماز کا ذکر شروع کر دیا۔ ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”میں تم سب سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں جانتا ہوں۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، جب آپ ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے، پھر قراءت کرتے۔ جب رکوع کرتے تب بھی تکبیر کہتے اور دورانِ رکوع اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھتے تھے اور اپنی انگلیاں کھلی ہوئی رکھتے تھے اور اپنی کمر کو نہ زیادہ جھکاتے نہ اوپر اٹھاتے بلکہ برابر رکھتے۔ جب رکوع سے اٹھتے تو سیدھے کھڑے ہو جاتے، یہاں تک کہ ہر عضو اپنی اپنی جگہ واپس لوٹ آتا، پھر جب سجدہ کرتے تو زمین پر اپنی ہتھیلیوں، گھٹنوں اور پاؤں کے سروں کو مضبوطی سے رکھتے اور اطمینان سے سجدہ کرتے، جب سر اٹھاتے تو سیدھے ہو کر اطمینان سے بیٹھ جاتے، دو رکعتوں کے بعد قعدہ کرتے، اس کا طریقہ یہ ہوتا کہ دایاں پاؤں کھڑا رکھتے اور بائیں پاؤں کو بچھا کر اس پر بیٹھ جاتے۔ جب چوتھی رکعت ہوتی تو بائیں پہلو پر بیٹھ جاتے اور دونوں پاؤں کو ایک طرف نکال لیتے۔“
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عباس بن سہل کی ابوحمید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اس میں ہے کہ ”آپ ﷺ سجدے میں اپنی ہتھیلیوں، گھٹنوں اور پاؤں کے سروں پر ٹیک لگاتے۔“
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عباس بن سہل کی ابوحمید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اس میں ہے کہ ”آپ ﷺ سجدے میں اپنی ہتھیلیوں، گھٹنوں اور پاؤں کے سروں پر ٹیک لگاتے۔“
حدیث نمبر: 2644
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا وُهَيْبٌ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عَمْرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلْيَضَعْ يَدَيْهِ، فَإِذَا رَفَعَ فَلْيَرْفَعْهُمَا فَإِنَّ الْيَدَيْنِ تَسْجُدَانِ كَمَا يَسْجُدُ الْوَجْهُ " كَذَا قَالَ وَرَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، فَقَالَ: رَفَعَهُ، وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ مَوْقُوفًا عَلَى ابْنِ عُمَرَ، وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ نَافِعٍ مَرْفُوعًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو اپنے دونوں ہاتھ پہلے رکھے اور جب اٹھائے تو دونوں کو اکٹھے اٹھائے؛ کیونکہ ہاتھ بھی چہرے کی طرح سجدہ کرتے ہیں۔“