السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: السجود على الكفين والركبتين والقدمين والجبهة باب: دونوں ہتھیلیوں، دونوں گھٹنوں، دونوں پاؤں اور پیشانی پر سجدہ کرنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ هِلَالُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ الْحَفَّارُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ أَشْكَابَ، ثنا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ، حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَيَّاشٍ أَوْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ أَبُوهُ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي الْمَجْلِسِ أَبُو هُرَيْرَةَ، وَأَبُو أُسَيْدٍ وَأَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ مِنَ الْأَنْصَارِ أَنَّهُمْ تَذَاكَرُوا الصَّلَاةَ فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: كَيْفَ؟ قَالَ: اتَّبَعْتُ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالُوا فَأَرِنَا قَالَ: فَقَامَ يُصَلِّي وَهُمْ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ، فَبَدَأَ " فَكَبَّرَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ نَحْوَ الْمَنْكِبَيْنِ، ثُمَّ كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ أَيْضًا حَتَّى أَمْكَنَ يَدَيْهِ مِنْ رُكْبَتَيْهِ غَيْرَ مُقَنَّعٍ رَأْسَهُ وَلَا مُصَوِّبِهِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ اللهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ فَرَفَعَ يَدَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: اللهُ أَكْبَرُ فَسَجَدَ فَانْتَصَبَ عَلَى كَفَّيْهِ وَرُكْبَتَيْهِ وَصُدُورِ قَدَمَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ، ثُمَّ كَبَّرَ فَجَلَسَ فَتَوَرَّكَ إِحْدَى قَدَمَيْهِ وَنَصَبَ قَدَمَهُ الْأُخْرَى، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ، ثُمَّ كَبَّرَ يَعْنِي فَقَامَ وَلَمْ يَتَوَرَّكْ، ثُمَّ عَادَ فَرَكَعَ الرَّكْعَةَ الْأُخْرَى كَذَلِكَ، ثُمَّ جَلَسَ بَعْدَ الرَّكْعَتَيْنِ حَتَّى إِذَا هُوَ أَرَادَ أَنْ يَنْهَضَ لِلْقِيَامِ قَامَ بِتَكْبِيرٍ، ثُمَّ رَكَعَ الرَّكْعَتَيْنِ الْأُخْرَيَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ، وَسَلَّمَ عَنْ شِمَالِهِ أَيْضًا السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ " قَالَ: وَحَدَّثَنِي عِيسَى أَنَّ مِمَّا حَدَّثَهُ أَيْضًا فِي الْجُلُوسِ فِي التَّشَهُّدِ أَنْ يَضَعَ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى وَيَضَعَ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ يُشِيرَ بِالدُّعَاءِ بِإِصْبَعٍ وَاحِدَةٍ، هَكَذَا رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ أَبِي بَدْرٍ وَرَوَاهُ بَعْضُهُمْ، عَنْ أَبِي بَدْرٍ، فَقَالَ: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ السَّاعِدِيِّ وَرَوَى عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ ⦗١٤٧⦘ عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَى، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ مُحَمَّدًا فِي إِسْنَادِهِ، وَالصَّحِيحُ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ قَدْ شَهِدَهُ مِنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ.عباس بن سہل ساعدی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ ایک مجلس میں تھے، وہاں ان کے والد بھی تشریف فرما تھے جنہیں صحابیٔ رسول ہونے کا شرف حاصل ہے [رضی اللہ عنہ]۔ اس مجلس میں سیدنا ابوہریرہ، سیدنا ابو اسید اور سیدنا ابو حمید ساعدی انصاری رضی اللہ عنہم بھی موجود تھے۔ انہوں نے نماز کے بارے میں مذاکرہ کیا تو سیدنا ابو حمید رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”میں رسول اللہ ﷺ کی نماز کو تم سب سے زیادہ جاننے والا ہوں۔“ انہوں نے کہا: ”وہ کیسے؟“ سیدنا ابو حمید رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”میں نے یہ رسول اللہ ﷺ سے سیکھی ہے۔“
وہ کہنے لگے: ”تو ہمیں پڑھ کر دکھاؤ!“ چنانچہ سیدنا ابو حمید رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور لوگ ان کی طرف دیکھنے لگے۔ انہوں نے نماز شروع کر دی۔ تکبیر کہی تو اپنے ہاتھ کندھوں تک اٹھائے، پھر رکوع کے لیے تکبیر کہی تو اسی طرح دونوں ہاتھ اٹھائے (رفع یدین کیا)۔ پھر اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں پر جما لیا۔ آپ ﷺ کا سر نہ زیادہ نیچے تھا اور نہ ہی زیادہ اوپر، بلکہ آپ ﷺ کی کمر برابر تھی۔ پھر سیدنا ابو حمید رضی اللہ عنہ نے سر اٹھاتے ہوئے کہا: «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی“، «اللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» ”اے اللہ! اے ہمارے رب! تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں“، پھر اپنے ہاتھوں کو اٹھایا (رفع یدین کیا)، پھر اللہ اکبر کہا اور سجدہ کیا اپنی ہتھیلیوں، گھٹنوں اور پاؤں کے سامنے والے حصے جما کر رکھے اور آپ ﷺ سجدے کی حالت میں تھے، پھر تکبیر کہہ کر بیٹھ گئے۔ پھر ایک بائیں پاؤں کو بچھایا اور دائیں پاؤں کو کھڑا کیا، پھر تکبیر کہی اور دوبارہ سجدہ کیا۔ پھر تکبیر کہہ کر سیدھے کھڑے ہو گئے اور رکے نہیں۔ پھر اسی طرح دوسری رکعت مکمل کی۔ پھر دو رکعتوں کے بعد بیٹھے۔ جب انہوں نے قیام کے لیے کھڑے ہونے کا ارادہ کیا تو تکبیر کہتے ہوئے کھڑے ہوئے، پھر دوسری دو رکعتیں ادا کیں، پھر دائیں اور بائیں طرف سلام پھیرتے ہوئے «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ» ”تم پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت ہو“ کہتے۔
ایک دوسری روایت میں تشہد میں بیٹھنے کا بھی ذکر ہے کہ آپ ﷺ نے بائیں ہاتھ کو بائیں ران پر اور دائیں ہاتھ کو دائیں ران پر رکھا، پھر دعا کے ساتھ (شہادت والی) انگلی سے اشارہ کیا۔