حدیث نمبر: 2553
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ السَّعْدِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أُرَاهُ رَفَعَهُ شَكَّ أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ: " مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ، وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ، وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ، وَفِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ تَسْلِيمَةٌ وَلَا صَلَاةَ لَا يُقْرَأُ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَغَيْرِهَا، فَرِيضَةً أَوْ غَيْرَ فَرِيضَةٍ، وَإِذَا رَكَعَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَدْبَحْ تَدْبِيحَ الْحِمَارِ، وَلْيُقِمْ صُلْبَهُ، وَإِذَا سَجَدَ فَلْيَمُدَّ صُلْبَهُ، فَإِنَّ الْإِنْسَانَ يَسْجُدُ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ جَبْهَتِهِ، وَكَفَّيْهِ، وَرُكْبَتَيْهِ، وَصُدُورِ قَدَمَيْهِ، وَإِذَا جَلَسَ فَلْيَنْصُبْ رِجْلَهُ الْيُمْنَى، وَلْيَخْفِضْ رِجْلَهُ الْيُسْرَى ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”وضو نماز کی چابی ہے اور اس کو حرام کرنے والی چیز تکبیر (تحریمہ) ہے اور اس سے حلال کرنے والی چیز سلام پھیرنا ہے اور ہر دو رکعت میں سلام (پھیرنا ہے) اور کوئی فرض نماز یا نفل نماز ایسی نہیں جس میں سورہ فاتحہ اور اس کے ساتھ کوئی سورت نہ پڑھی جائے اور جب تم میں سے کوئی رکوع کرے تو گدھے کی طرح کوہان نہ بنائے (یعنی رکوع میں کمر پھیلا کر اور سر جھکا کر پیٹھ سے نیچے نہ کرے) بلکہ اپنی کمر سیدھی رکھے اور جب سجدہ کرے تب بھی اپنی کمر سیدھی رکھے، بیشک انسان سات ہڈیوں پر سجدہ کرتا ہے: اپنی پیشانی پر، دونوں ہاتھوں پر، دونوں گھٹنوں پر اور اپنے پاؤں کے اگلے حصے (انگلیوں) پر اور جب بیٹھے تو اپنے دائیں پاؤں کو کھڑا رکھے اور بائیں پاؤں کو بچھا لے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2553
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»